دہلی:۔حکومت نے بدھ کو کہا کہ 28 ریاستوں میں سے 10 اور مرکز کے زیر انتظام 8 میں سے6 ریاستوں نے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت کوئی کیس درج نہیں کیا ہے۔یہ معلومات امور داخلہ کے وزیر مملکت نتیانند رائے نے راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں دی۔ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سال 2019 میں یو اے پی اے کے تحت 1,948 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جب کہ 2020 میں یہ تعداد کم ہو کر 1,321 پر آ گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال یو اے پی اے کے تحت سب سے زیادہ گرفتاریاں اتر پردیش، جموں و کشمیر اور منی پور میں کی گئیں۔ گزشتہ سال اس قانون کے تحت اتر پردیش میں 361، جموں و کشمیر میں 346 اور منی پور میں 225 افراد کو گرفتار کیا گیا۔یو اے پی اے کے تحت 2019 میں دہلی میں 9 اور 2020 میں 12 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا، جب کہ جموں و کشمیر میں یہ تعداد 2019 میں 227 اور 2020 میں 346 تھی۔بہار، مہاراشٹر، میگھالیہ، پنجاب اور مغربی بنگال میں 2019 کے مقابلے 2020 میں زیادہ لوگ گرفتار ہوئے۔رائے نے کہاکہ یو اے پی اے کے تحت مقدمات کی جانچ ریاستی پولیس اور قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کرتی ہے۔ این آئی اے کی طرف سے زیر تفتیش مقدمات کی جلد سماعت کیلئے ملک بھر میں 49 عدالتیں قائم کی گئی ہیں۔
