من موہن سنگھ کے سینے میں چھ کی چھ گولیاں داغ دیتا:ہندو دہشت گرد;ہمیں ایسے 100سپاہیوں کی ضرورت ہے جو 20لاکھ مسلمانوں کوقتل کرسکیں;

سلائیڈر نمایاں نیشنل نیوز
ہری دوار:لگتا ہے کہ بھارت میں ہندو دہشت گردوں کا بازار گرم ہوچکاہے اور انہیں روکنے ٹوکنے والاکوئی نہیں رہا،جہالت اور نفرت کی آگ میں جھلس رہے سنگھ پریوارکے لوگ اب کھلے عام قتل وغارت گری کیلئے لوگوں کا اُکسارہے ہیں۔  ہندوتوا پرچم کی پاسبانی کے دعویدار اور نفرت انگیز بیان بازی کے لئے پہچانے جانے والے یاتی نرسنگ آنند نے اتراکھنڈ کے ہری دیوار میں تین روز تقاریب منعقد کئے جس میں ہندوتوا قائدین کو اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اور ان کے مذہبی مقامات پرحملے کرنے کے عزم کا اظہار کیاگیاہے۔ مذکورہ تین دنوں کے ’دھرم سنسد“ جس کا 17-19ڈسمبر انعقاد عمل میں آیاتھا جس کا ویڈیوز سوشیل میڈیا پر وائیرل ہورہے ہیں جس میں متعدد شخصیات مذہبی اقلیتوں کے خلاف زہر افشانی کرتے ہوئے دیکھائی دے رہے ہیں جس کے ساتھ نعرہ ’شستر مے وجیتا“ نعرے بھی لگائے جارہے ہیں۔ جس میں دعویٰ کیاجارہاہےکہ ہتھیار کے بغیر کوئی بھی جنگ نہیں جیت سکتے۔اس نے مزیدکہاکہ صرف معاشی بائیکاٹ کام نہیںکرے گا بلکہ ہندوگروپس کو خود کو جوڑے رکھنے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت اور زہر اگلنے کی وجہہ سے پہچانے جانے والے یاتی نے کہاکہ ”تلواریں صرف اسٹیج پر نہیں اچھی لگتی ہیں۔ یہ جنگ وہی جیتے گا جس کے پاس شاندار ہتھیار ہیں“۔ہمیں ایسے 100سپاہیوں کی ضرورت ہے جو
 20لاکھ مسلمانوں کا قتل کرسکیں، ہم فاتح ہوں گے۔ کتابیں اور دیگرمطالعہ کی چیزیں بازو رکھیں اور اپنے ہتھیار اٹھائیں“۔ہندوتوا کے بہار نمائندے دھرمیندر مہاراج نے اقلیتوں کی حمایت کرنے پر کھلے عام سابق وزیراعظم من موہن سنگھ کے قتل کی خواہش ظاہر کی ہے۔انہوں نے کہاکہ ”اگر میں اُسوقت پارلیمنٹ میں ہوتا جب سابق وزیراعظم من موہن سنگھ نے کہاتھا کہ قومی وسائل پر پہلا حق اقلیتوں کا ہے تو میں ناتھو رام گوڈسے کے نقش قدم پرچلتااو رایک ریوالور سے ان کے سینے میں چھ گولیاں داغ دیتا تھا“۔وارناسی نژاد تنظیم شنکر اچاریہ پریشد کے صدر اور ایک ہندو لیڈر آنند سواروپ مہاراج نے کہاکہ ”اگر حکومت ہمارے مطالبات نہیں سنتی ہے (اقلیتوں پرتشدد کے ذریعہ ایک ہندو راشٹر قائم کریں) ہم 1857کی بغاوت کے طرز پر جنگ کردیں گے“۔سواروپ کا دعوی ہے کہ انہوں نے لوگوں‘ ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کو ہری دیوار میں کرسمس تقاریب منانے کے خلاف دھمکی دی اور سنگین نتائج کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہنے کا انتباہ دیا۔انہوں نے اس سال لوگوں کوعید اور کرسمس نہیں منانے دینے کے عزم کااظہار کیااور کہاکہ اتراکھنڈ کی سرزمین”ہندوؤں کی ہے“ اور اس کیلئے یہ تقریبات ”غیر آئینی“ ہیں۔”میں بارہا یہ بات کہہ رہاہوں کہ 5000کا موبائیل فون اچھا ہے مگر ہمیشہ کم سے کم ایک لاکھ کا ہتھیار ساتھ رکھنا چاہئے۔