شیموگہ:۔اسکولوں اورکالجوں میں کورونا کے پھیلائو کو روکنے کیلئے کڑے انتظامات کرنے ہوںگے۔ یہ مشورہ ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر آر سلوامنی نے کیا ہے۔ انہوں نے گذشتہ شام اپنےدفتر میں متعدد محکموں کے حکام کے ہمراہ نشست میں کوویڈ کنٹرول کے احتیاطی تدابیر کے متعلق تبادلہ خیال کیا اور مناسب اقدامات کے بارے میں غوروفکر کیا گیا۔ ضلع میں اب تک پرائمری اسکولوں کی سطح میں 115 طلباء اور26 اساتذہ کو کوویڈ پازیٹیومعاملوں کا انکشاف ہوا ہے۔ اسی طرح کالج سطح پر 35 طلباء اور6 اساتذہ کورونا سے متاثرہوئے ہیں۔ اس ضمن میں 5اسکولوں اور 4کالجوں کو ایک ہفتے کیلئے سیل ڈائون کیا گیا ہے ۔ ڈپٹی کمشنر نے اس تعلق سے ہدایت کی ہے کہ کورونا کے بڑھتے معاملات پر قابوپانے کیلئے حکومت کے رہنمائی خطوط پر عمل کرنا لازمی ہے۔ اس ضمن میں اسکول اورکالج آنے والے بچوں کو اسکول کے آغاز میں ہی لازمی طور پر طلباء کا ٹریمپریچر کی جانچ ہونی چاہئے، بخار کی علامت والے طلباء کو گھرواپس بھیج دینا چاہئے۔اسی طرح جو طلباء ہاسٹل میں مقیم ہیں انکی صحت کی جانچ کو مسلسل نگاہ رکھی جانی چاہئے۔ جن ہاسٹلوں میں 5سے زائد کوویڈ کے معاملوں کا انکشاف ہوتا ہے تو انہیںعارضی طور پر سیل ڈائون کیا جانا چاہئے۔ وہاں موجود طلباء کو گھر بھیجنے کی بجائے وہیں انکا خیال رکھا جانا چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ شہر کی تمام اسکولوں اورکالجوں میں کوویڈ کے معاملوں پر نگاہ رکھنے اوررپورٹ پیش کرنے کیلئے نوڈل آفیسر کا تقرر کرنے کا حکم دیا۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ اب تک ضلع میں سامنے آئے کوویڈ معاملوں کی شرح کے 99 فیصد مریضوں میں کسی بھی طرح کی علامتیں نظرنہیں آئی ہیں۔ اسکے باوجود بھی احتیاط برتنا نہایت ضروری ہے۔ مزید انہوں نے بتایا کہ ضلعی سطح پر اب تک 98 فیصد افراد کو پہلا ڈوز اور83 فیصد لوگوں کو دوسرا ڈوز دیا گیا ہے۔ ٹیکہ اندوزی کا کام ایک مہم کی شکل میں کیا جانا چاہئے اورہمیں 100 فیصد نتائج ملنے چاہئے،اس کیلئے 60 سال سے زائد عمر والے افراد کو بوسٹر ڈوز اور 15 سے17 سال کے عمر کے بچوں کو بھی ٹیکے دلوانے کا کام اگلے ایک ہفتے میں مکمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے ۔ اس موقع پر ضلع پنچایت ایکزیکٹیوآفیسر ویشالی، اڈیشنل ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر ناگیندر، کارپوریشن کمشنر چدانند ایس وٹارے، سمس ڈائریکٹر ڈاکٹر سدپا، وغیرہ موجودتھے۔
