شیموگہ: کرناٹک الیکٹریسٹی ریگولیٹر نے بدھ کے روز مالی سال 2021-22 میں صارفین کیلئے یکم اپریل سے بجلی کی شرحوں میں 30 پیسے فی یونٹ کا اضافہ کر دیا ہےجس کی مذمت میں آج ڈپٹی کمشنردفتر کے سامنے یوتھ کانگریس نے زبردست احتجاج کیا اور اسے ریاست کے لوگوں کیلئے ’بی جے پی جھٹکا‘ قرار دیا۔کرناٹک الیکٹریسٹی ریگولیٹری کمیشن (کے ای آر سی) نے مالی سال 2021-22 کے لئے 30 پیسے فی یونٹ ٹیرف میں اضافہ کو منظوری دی ہے۔ تاہم بجلی ترسیل کمپنیوں نے اوسطاً 1.35 روپے فی یونٹ کے اضافہ کا مطالبہ کیا تھا۔ کمیشن نے کہا کہ ترمیم شدہ ٹیرف میں بجلی ترسیل کمپنیوں کی جانب سے کئے گئے 17.31 فیصد اضافہ کے مطالبہ کے مقابلہ میں صرف 3.84 فیصد کا ہی اضافہ کیا گیا ہے۔یوتھ کانگریس نے بجلی کے داموں میں اضافہ پر احتجاج درج کراتے ہوئے کہا کہ بجلی کی شرحوں میں اضافہ عام آدمی سے لے کر صنعتوں تک سبھی کیلئے تباہ کن ثابت ہوگا، لوگ وبا کے سبب پہلے ہی پریشان ہیں۔انہوں نے کہا کہ کرناٹک کے پاس اضافی بجلی موجود ہے اس کے باوجود بی جے پی حکومت مرکزی گرِڈ، ادانی اور دیگرکارپوریٹ کمپنیوں سے مہنگے داموں پر بجلی خرید رہی ہے، جس کی قیمت ہم لوگوں کو ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ادھر الیکٹریسٹی کمیشن نے کہا ہے کہ ترمیم شدہ ٹیرف یکم اپریل سے نافذ ہوگا،لیکنکورونا لاک ڈاؤن کے سبب پریشان صارفین پر زیادہ بوجھ نہ پڑے اس کیلئے اپریل تا مئی کے بقایہ کو اکتوبر-نومبر میں بغیر سود وصول کیا جائے گا۔ریاست میں بجلی کی کوئی کمی نہیں ہے۔ کانگریس حکومت کے دوراقتدار میں بجلی کے شعبے میں سدھار لایا گیا تھااور نئے منصوبوں کی وجہ سے کرناٹک نے توانائی کے شعبے میں خود کفالت حاصل کرلی تھی۔ ریاست میں تقریبا 30 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے۔ جبکہ بجلی کا استعمال صرف 8.5 ہزار سے 10 ہزار میگا واٹ ہے۔ بجلی کی کل پیداوار کا دوتہائی حصہ شمسی اور فضاءحاصل کیا جاتا ہے ۔ بجلی کی زیادہ سے زیادہ پیداوار کے باعث رائچور تھرمل پاور پلانٹ کوحال ہی میں بند کردیا گیا ہے۔ اگر ایسا ہےتو پھر کہیں اور سے بجلی خریدنے کی کیا ضرورت ہے؟۔ایسے میں بجلی کی قیمتوں کو کم کرنے اور بجلی کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرکے معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے کا کام ریاستی حکومت کو کرناچاہئے تھا۔ لیکن پچھلے تین سالوں میں بجلی کے استعمال میں کمی آئی ہے۔لیکن ریاستی حکومت بجلی کے نرخوں میں اضافہ کرکے بجلی صارفین پرافزودبوجھ ڈالنے کا کام کررہی ہے۔ ریاست میں بجلی کی پیداوار کرنے والی کمپنیاں خسارہ اٹھارہی ہیں اسکا راست ذمہ دار بھی خود ریاستی حکومت ہی ہے۔اس موقع پر یوتھ کانگریس ضلعی صدر ایچ پی گریش، صدرسکریٹری رنگناتھ ، کارپوریٹر ایچ سی یوگیش، سائوتھ بلاک کانگریس صدر بی لوکیش، نتن، اراکین میں مستان ، عرفان وغیرہ موجودتھے۔
