بنگلورو:۔کرناٹک کانگریس یونٹ میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہونے کا اشارہ ملنے کے بعد میٹنگ بلائی گئی تھی۔ دراصل کرناٹک میں ایک سال بعد یعنی سال 2023 میں اسمبلی انتخابات ہیں۔ کانگریس کی طرف سے وزیر اعلیٰ کے چہرے کو لے کر ڈی کے شیوکمار اور سدارامیا کے حامیوں کے درمیان کشمکش بڑھ رہی ہے۔ اس کی وجہ سے آنے والے دنوں میں ریاستی کانگریس میں مزید پریشانی دیکھی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں پارٹی کی مرکزی قیادت نے معاملہ حل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے شیوکمار اور سدارامیا سمیت 15 لیڈروں کو دہلی طلب کیا ہے ۔ جانکاری کے مطابق کرناٹک کانگریس کے انچارج رندیپ سنگھ سرجے والا، پارٹی کے تنظیمی جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال اور راہل گاندھی جمعرات کو ریاستی لیڈروں سے بات کرکے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرینگے۔ کئی سینئر لیڈروں جیسے ملکارجن کھرگے، کے ایچ منیپا، بی کے ہری پرساد، ایم پی پاٹل، کے رحمن خان، ڈاکٹر جی پرمیشور، ایچ کے پاٹل اور دیگر کو بحث کیلئےبلایا گیا ہے۔تاہم سدارامیا اور ڈی کے شیوکمار دونوں کو بیک وقت بی جے پی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ جنوری میں دونوں لیڈران میکیڈاتو ڈیم پراجیکٹ عمل آوری ریلی کے لیے ساتھ ساتھ نکلے تھے اور حال ہی میں انہوں نے وزیر ایشورپا کو وزیر اعلیٰ بومئی کابینہ سے ان کے مبینہ ملک مخالف تبصروں پر برخاست کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔اس سے پہلے بی زیڈضمیر احمد خان، جو سدارامیا کے حامی سمجھے جاتے ہیں، راگھویندر ہٹنل نے بھی سدارامیا کی حمایت میں نعرے لگائے تھے اور کرناٹک میں وزیر اعلیٰ کا امیدوار بنائے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ جبکہ کچھ لیڈر جیسے این اے حارث اور دوسرے شیوکمار کی حمایت کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے اپنے اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ وہ عوامی سطح پر کوئی بھی بیان دیں۔
