کوروناکے قہرکے درمیان بندرکی بخارنےپھیلائے پَر; آئینور اسکول کے میر معلم راگھویندرا میں بندرکی بخار اثر؛ حا لات سنگین

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
شیموگہ:۔محکمہ صحت عامہ کے اعلیٰ افسر سے لیکر ادنیٰ ملازم تک کورونا،اومیکرون جیسے وبائی امراض کے پیچھے لگے ہوئے ہیں،وہیں دوسری جانب بندرکی بخار(کیسنورفاریسٹ ڈیسیز؛کے ایف ڈی)کا بخارپَر پھیلا رہاہے اور ملناڈ علاقے میں لوگوں کو اس کاشکاربنارہا ہے ۔کے ایف ڈی کورونا سے زیادہ خطرناک اور مہلک بیماری ہے،جو پچھلے24 سالوں سے ملناڈعلاقے کے شیموگہ،تیرتھ ہلی،ہوسنگر،آگمبے اور چکمگلوروضلع کے کوپہ،شرنگیری،موڑگیرے جیسے علاقوں میں لوگوں کو بڑے پیمانے پر اثر کرتے ہوئے موت کے گھاٹ اتاردیا ہے ۔ لیکن پچھلے کچھ دنوں سے ریاست کا محکمہ صحت عامہ عالمی وباء کورونا کے پیچھے لگاہواہے،ایسے میں کے ایف ڈی کے تعلق سے غوروفکر نہیں ہورہی تھی،اسی وباء نےشیموگہ ضلع کے آئینورگرام پنچایت کی سرکاری اردو اسکول میں خدمات انجام دینے والے کے ای ایس افسر ومیر معلم راگھویندرا پر اثر کرچکی ہے،جس کی وجہ سے ان کی حالت شدید خطرے میں بتائی گئی ہے ۔ شیموگہ میں ابتدائی علاج کے بعد انہیں مزید علاج کیلئےمنی پال کی اسپتال لے جایاگیاہے۔کے ایف ڈی بخارکی علامتیں کم وبیش کوروناکے اثرات کی طرح ہی ہوتے ہیں،لیکن یہ کورونا سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والامرض ہے۔شیموگہ شہرمیں اس بیماری سے بچائو اور روک تھام کیلئے باقاعدہ طور پر تحقیقی اور تربیتی مرکز بھی قائم کیاگیاہے،اسی بیماری کی روک تھام کیلئے یہاں طبی مرکز بھی قائم کیاگیاہے۔کے ایف ڈی یعنی کیسنور جو سوربہ تعلقہ کا ایک چھوٹا سا گائوں ہے،وہاں سب سے پہلے اس بیماری کی علامت دیکھی گئی تھی ۔ 1957 میں سب سے پہلے اس کااثر شیموگہ میں پایا گیا تھا،اس کےبعد یہ مرض مہاراشٹرا، کیرل ، تملناڈو، ویسٹ بنگال ، مدھیہ پردیش میں بھی اثردکھانے لگا تھا ۔ بندروں کے اندرپائے جانے والے وائرس جب جنگلی جانوروں کے ذریعے یا کیڑے مکوڑوں کے ذریعے سے آبادی والے علاقوں میں منتقل ہوتے ہیں ،تب یہ بیماری تیزی سے پھیلنے لگتی ہے۔حالانکہ ابتدائی مرحلے میں اس مرض کا علاج ممکن ہوتاہے،لیکن جب جانچ کرنے والے اہلکار اس میں تاخیر کرتے ہیں توتب جاکر مریض کوبچاپاناناممکن ہوجاتاہے ۔ ابتدائی طور پرمریض کو بخار ،سردرد،قئے اورقبض ہوتاہے،اگر اس مرض کو7سے14 دنوں کے درمیان نشاندہی کرلی جاتی ہے تو اس کا علاج ممکن ہے،ورنہ مریض کو بچاپانامشکل قراردیا گیا ہے ۔ دیکھنایہ ہے کہ اس وقت شیموگہ ضلع انتظامیہ کے ایف ڈی بیماری کی روک تھام کیلئے کیا احتیاطی تدابیر اٹھائیگا؟۔