شیموگہ:ریاست میں حجاب کے معاملے کو لیکرکالجوں میں طلباء کے درمیان اشتعال دلانے والی قوتوں کے خلاف کارروائی کی جائے، سابق ایم ایل اے کے بی پرسنا کمار نےاسرار کیا ہے۔انہوں نے آج ضلع پولیس سپرنٹنڈنٹ لکشمی پرسادسے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ کل کے ہنگامے کی جانکاری حاصل کی ۔ ایسے حالات میںغیر ضروری طور پرکالجوں سے غیر تعلق رکھنے والے افراد کا کالجوں میںگھس کر فسادات مچانا اور تشدد کو ہوا دینے کے ساتھ ساتھ طالب العلموں کو غلط راہ پر لینے والی ان شرپسند طاقتوں کی شناخت جلدازجلد کی جانی چاہئے اوراس پر قانونی کارروائی کرنے پر زور دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پولیس نے کل تشدد کے دوران ان تاجروں کی دکانیں بند کرنے کی ہدایت دی جو پہلے سے مشکل میں ہیں ۔انہوں نے درخواست کی کہ کاروبار کو جاری رہنے دیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ کالج میں معمولی واقعات کی صورت میں کالج انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ یونیورسٹی کی سطح پر اسکوحل کرنے پر ترجیح دیں۔ ماضی میں اسی طرح کے واقعات 2016 میں سہیادری کالج میں ہوئے تھے،جسے فوری طور پر یونیورسٹی سطح پرحل کرلیا گیا تھا۔ لیکن اس بار غیر ضروری طور پر فسادبرپا ہوا ہےاس معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔اس کا جواب دیتے ہوئے ایس پی لکشمی پرساد نے کہا کہ سیکشن 144 نافذ ہونے کے باوجود تمام دکانوں کو بند نہیں کیا گیا ہے بلکہ چند حساس علاقوں کی کچھ دکانیں اور کینٹین بندکی گئی تھی۔پولیس نے طلباء کو غیر ضروری نقل و حرکت سے روکنے کیلئے سخت کارروائی کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دن کی صورتحال کا جائزہ لیا جائیگا اورکل صبح سے حالات معمول پر آجائیں گے۔اس موقع پر کانگریس لیڈروکارپوریشن کی اپوزیشن لیڈر یمونا رنگے گوڑا، کارپوریٹرشا ہ میر خان اور آر سی نائک سمیت دیگر موجود تھے۔ایس پی سے ملاقات کے بعد گورنمنٹ گریجویٹ کالج میں گزشتہ روز پتھراؤ کے دوران زخمی ہوئے طلباءان تمام لیڈروں نے میگان اسپتال میںملاقات کی اور اپوزیشن پارٹی لیڈر یمونا رنگے گوڑا نے طلباء کی صحت کے بارے میں دریافت کیا،ان کو ہمت دی اور پھل تقسیم کئے ۔
