شیموگہ:۔ شیموگہ شہرمیں بجرنگ دل کے کارکن ہرشاکے قتل کے معاملے میں نافذ کئے گئے سیکشن144کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہزاروں کے مجموعہ کےدرمیان مردہ جسم کا جلوس نکالا گیا ہے اوراس میں حصہ لینے والے بی جے پی لیڈروں کے خلاف شکایت درج کروائی گئی ہے۔ سماجی کارکن این ہنوماگوڑا نامی شخص نے اس معاملے میں ریاستی پولیس کے ڈائریکٹر جنرل پروین سود سے شکایت کی ہے۔ہرشا قتل کے پیش نظر شیموگہ شہر میں 144 کی پابندی عائد کی گئی ہےلیکن اس کے بعد بھی شوایاترا نکالی گئی اوراس ریالی کی قیادت وزیر کے ایس ایشورپا اور رکن پارلیمان نے کی ہے۔اسی کی وجہ سے ہنگامہ آرائی، پتھراؤ اور گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی، ان کے خلاف شکایت درج کر کے قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیاہے۔ بجرنگ دل کے ایک 26 سالہ کارکن ہرشا کا 20 فروری اتوار کی رات کو بھارتی کالونی میں نوجوانوں کے ایک گروہ نے قتل کر دیا تھا۔ حملے کے بعدزخمی ہرشا کو اسپتال لے جایا گیا۔ ہرشا کی اسپتال میں موت ہو گئی تھی۔ اس معاملے سے شہر میں شدید کشیدگی پیدا ہوئی ہے۔این ہنومےگوڑا نے اپنی شکایت میںواضح طورپر تحریر کیاہے کہ”حکومت کے اعلان پر ہی پابندی لگائی گئی ہے اورخود حکومتی نمائندوں اوروزراء ہی اسکی خلاف ورزی کررہے ہیں”انہوں نے کہا کہ اپنی حکومت کے احکامات کو یہ خود ہی توڑ رہے ہیں۔شہربھر کی پولیس اس جلوس میں تعینات تھی اور وزیر خود اس ریالی میں شامل تھے اورپولیس کے سامنے ہی راستوں میں سڑکوں پر کھڑی گاڑیوں کو آگ لگا دی ہے اوربڑے پیمانے پر عوامی املاک کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔ ریاست کے لوگوں کےمفادات کا خیال رکھنے والے وزراء نے اس معاملے میں اپنی ذمہ داریوں کو بھول کر غیر ذمہ دار کا رویہ اختیار کیاہے جس کی وجہ شیموگہ شہر میں فرقہ وارانہ فساد پیدا ہوئے ہیں اوراس میں کسی کا نہیں بلکہ بے گناہ اورمعصوم عوام کا بڑے پیمانے پر نقصان ہواہے۔ اس لیے لوگوں کی ذات پات، فرقہ وارانہ منافرت ، قانون کو پامال کے الزام میںوزیر ایشورپا اور رکن پارلیمان کے خلاف کارروائی کرنےکا مطالبہ کیا ہے ۔ شکایت گزار نے اپنی شکایت میں وزیر داخلہ ارگا گیانیندر، وزیر برائے دیہی ترقیات کے ایس ایشورپا اور رکن پارلیمان راگھویندر اکے نام بھی شامل کئے ہیں۔
