شیموگہ : ملک میں بچپن کی شادی پر پابندی نافذ ہونے کے باوجودآج بھی بچوںکی شادیوں کا رواج سماج میں جاری ہے۔ریاست میں بچپن کی شادیوں کو مکمل طور پر روک لگانے کے مقصد سے ” ویڈیو آن وہیل وہیکل”کا استعمال کیا جارہا ہے جس کے ذریعےبچوں کی شادی سے متعلق آگاہی مہم چلائی جارہی ہے۔ اس بات کا اظہار ڈپٹی کمشنرسیلوامنی نے کیاہے۔ انہوں نے اپنے دفتر کے احاطے میں ضلع انتظامیہ، ضلع پنچایت ، لیگل سروس اتھارٹی اور محکمہ بہبودی خواتین اطفال دیگر محکموں کے اشتراک سے منعقدہ بچپن کی شادی پر پابندی مہم کے آغاز کے موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کم عمرمیں کی گئی شادی سے بچوں کا مستقبل تباہ ہو رہا ہے اور یہ رواج معاشرے کیلئے مہلک ہے۔ ریاست کے تمام حصوں میں بیک وقت بچپن کی شادی پر ایک منفرد سواری کی مدد سے منسلک ویڈیو پیش کر کے عوام میں وسیع پیمانے پر بیداری لانے کا کام کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بیداری مہم 30 دنوںتک جاری رہے گی، ضلع کے تمام41 اضلاع کےتمام اسکولوں، کالجوں اور ہاسٹلوں میں منعقد ویڈیو آن وہیلس سواری کی مدد سے کم عمری کی شادی کے بارے روزانہ 5 ویڈیو کی پیش کش کے ذریعہ جملہ 150 ویڈیو نشر کئے جانے کے بارے میں ڈپٹی کمشنر نے بتایا ۔بچوں کی شادی کی روک تھام صرف محکمہ بہبودی خواتین و اطفال تک محدود نہیں ہے بلکہ عوامی نمائندےسمیت کمیونٹی کے تمام افراد، گاؤں کی سطح سے لے کر اعلیٰ سطح تک تمام سماج کے افرادکوایک ہوکر مکمل طور پراس پر روک لگانی کی ضرورت ہے۔کارپوریشن میئر سونیتا انپا کے ہاتھوں”ویڈیو آن وہیلس” کی سواری کا افتتاح کیا گیا۔ ضلع پنچایت سی ای اوایم ایل ویشالی نے اس موقع پر بات کرتے ہوئےکہاکہ بچوں کی شادی سے لڑکیوںکا مستقبل تباہ ہورہا ہےاورانکی زندگیوںسے انکا تعلیمی حق، زندگی کا حق ،تحفظ، ترقی، جیسے تمام حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے۔ اس لیے ہر کسی کو بچپن کی شادی کو روکنے اور ایک آزاد معاشرہ بنانے کا پابندہونا ہے۔اس موقع پر آشا کارکنان، آنگن واڑی کارکنان اور خواتین کے حق میں آواز اٹھانے والی تنظیمیں،نے انسانی دائرہ بنا کر بچپن کی شادی کے بارے میں بیداری پیدا کی گئی۔ اس موقع پر دیگر افسران محکمہ بہبودی خواتین و اطفال کی کے ڈپٹی ڈائریکٹر جی سریش بھی سمیت دیگر عملہ موجود تھا۔
