ضلع بھر میں پُر امن گزرادسویں کا پہلا پرچہ

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:آج سےریاست بھر میں ایس ایس ایل سی کاامتحان شروع ہو چکا ہے اورضلعی سطح پر یہ امتحان پرامن طریقے سے گزراہے۔ یونیفارم کے حوالے سے اب تک کوئی تلخ واقعہ پیش نہیں آیا ہے۔آج سے ایس ایس ایل سی امتحانات کی شروعات ہوئی ہےاور11 اپریل تک یہ امتحانات جاری رہیںگے۔ کوویڈ کے تناظر میں پچھلے 2سالوں سے دسویں کے امتحانات پوری طرح منعقد نہیں ہوئے ہیں۔ اب کوویڈ اور حجاب کی الجھن کے درمیان، ایس ایس ایل سی کے امتحانات کا آغاز ہوا ہے۔ اس موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے محکمہ تعلیم عامہ کے ڈپٹی ڈائریکٹراین ایم رمیش بتایا کہ ضلع میں 94 امتحانی مراکز ہیں۔ جسمیں24287 بچے امتحان لکھ رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ امتحانات کو پرامن طور پر انجام دینے کیلئے 35حکام 94 مقامی افسران اور 94 سپروازئرس کو مقرر کئے گئےہیں۔ضلع کے تمام امتحانی مراکز میں بنیادی سہولیات جیسے پینے کا پانی اور بیت الخلاء فراہم کیے گئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کوویڈ کی ہدایتی احکامات کے مطابق امتحانی مراکز میں سوشیل ڈسٹینس ، ماسک، سینیٹائزر اور تھرمل اسکیان کرنےکیلئےہدایت دی گئی ہے۔ اس کیلئےمحکمہ کے اہلکاروں کا تقرر کیا گیا ہےاورانہیں مشورہ دیا گیا ہے کہ اگر کسی میں انفیکشن کی علامات دکھائی دینے کی صورت میں الگ الگ امتحان کرائیں۔حجاب کے معاملے میں ضلع میں صرف ایک طالبہ کے امتحان سے واپس جانے کی بات کہی گئی ہے۔ لیکن وہ بھی دوبارہ واپس امتحانی مراکز پہنچ کر امتحان لکھنے کی اطلاع بھی موصول ہوئی ہے۔ اسطرح ضلع بھر میں یونیفارم کی پیچیدگی کے متعلق کوئی الجھن رونما نہیں ہوئی ہے اور پرامن امتحانات کا آغاز ہونے کی بات افسررمیش نے بتائی ہے۔اس سب کے درمیان آج امتحانات کے شروعات میں ایک اورخاص بات یہ سامنے آئی کہ شہر کی میری امیکولیٹ امتحانی مرکز میں امتحانات کی شروعات میں ہی شہدکی مکھیوں کا حملہ ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ جس میںدس سے زیادہ طلباء اور والدین کو شہد کی مکھیوں نے زخمی کردیا تھا۔ زخمی طلباء کو فوری طور پر ڈاکٹرکو بلواکر علاج کروایا گیا۔ انہیں امتحانات لکھنے کیلئے اضافی وقت بھی دیا گیا ہے۔جائے وقعہ پر ضلع پنچایت سی ای او ایم ایل ویشالی نے آکر ملاقات کی ہےاور ضلع محکمہ صحت اور خاندان کے افسران کو اس علاقے میں ایک ایمبولینس منگواکر۔ طلباء کے ساتھ آنے والےدو والدین جنہیں شہد کی مکھی نے اپنا شکار بنایا تھاانہیںاسپتال لے جانے میں مدد کی اورانکا علاج کروایا گیا ہے۔