بلگام:۔ ملک بھر میں کئی مقامات پر حال ہی میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے واقعات رونما ہونے کا سلسلہ جو شروع ہوا تھا وہ بدستور جاری ہے۔ اب کرناٹک میں مذہبی ہم آہنگی کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔ آج تک کی رپورٹ کے مطابق ریاست کے بیلگاوی ضلع کی ایک مسجد میں کچھ شرپسندوں نے بھگوا جھنڈا لہرا دیا۔اس واقعے کے بعد بلگام شہر میں پولیس کو حفاظتی اقدامات بڑھانے کیلئے احکامات جاری کئے ہیں ، انتخابات کے قریب ہوتے دیکھ مسلسل ریاست میں بدامنی پھیلائی جارہی ہے ۔خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے کرناٹک کے چرچ میں بھی بھگوا جھنڈا لہرایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ چرچ میں ہنومان کی تصویر بھی رکھ دی گئی تھی ۔ پولیس نے واقعہ کے تعلق سے سی سی ٹی وی فوٹیج کی جانچ پڑتال کی، لیکن ابھی تک کچھ پتہ نہیں چلا۔ تحقیقات کے دوران پولیس کو موقع سے کچھ شراب کی بوتلیں بھی برآمد ہوئی تھیں۔ پولیس نے چرچ سے بھگوا جھنڈا اور ہنومان کی تصویر ہٹا دی تھی۔ اہل علاقہ نے ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔وہیں دوسری جانب کرناٹک میں شری رام سینا کے کارکنان جس طرح سے شر پھیلا رہے ہیں ان پر کارروائی کرنے سے پولیس پیچھے ہٹ رہی ہے مگر ریاست کی تنظیموں ، سماجی کارکنان یا پھر اداروں کی جانب سے اس تنظیم پر پابندی لگانے یا پھر اس تنظیم کے سربراہ پرمود متالک جیسے افراد پر قانونی شکنجہ کسنے کے لئے اب تک عدالتو ں سے رجوع نہیں کیا بلکہ صرف اور صرف اخبارات میں فوٹو ڈلوانے کی خاطر میمورنڈ م دینے کوہی اپنا فرض سمجھ رکھا ہے جس کا اثر نہ کہ برابر ہورہاہے ۔
