از قلم : مدثر احمد شیموگہ ۔9986437327
اس وقت بھارت کے مسلمان جن بدترین حالات سے گزررہے ہیں وہ شاید ہی آزادی کے 70 سالوں کے درمیان کبھی گزریں گے ہونگے، پہلے صرف فرقہ وارانہ فسادات ہوا کرتے تھے ، مسلمانوں کو مارا پیٹا جاتا تھا پھر کچھ عرصے بعد حالات معمول پر اتر آتے تھے ، حکومتوں سے انصاف کی امید کی جاسکتی تھی اور عدالتوں میں مظلوموں کو سنا جاتا تھا لیکن اب حالات بالکل اسکے برعکس ہوچکے ہیں ، اس وقت صرف مسلمانوں کے سر پر ننگی تلواریں ہی نہیں لٹک رہی ہیں بلکہ مسلمانوں کے مساجد ،مدارس ، شریعت یہاں تک کہ دین پر بھی خطرے منڈلارہے ہیں ۔ مسلمانوں کے نبی ﷺ کی شان میں مسلسل گستاخیاں ہو رہی ہیں ، مسلمانوں کی بات نہ کوئی حکومت سن رہی ہے نہ ہی عدالتوں میں کوئی جواز ہے ، ان تمام پہلوئوں پر جب بات کی جاتی ہے تو ایک ہی بات سامنے آتی ہے کہ اس وقت مسلمانوں کی ملّی اور سیاسی قیادت کمزور ہوچکی ہے اور مسلمانوں کی رہبری کے لئے کوئی مضبوطی کے ساتھ سامنے نہیں آرہاہے اور جو سامنے آرہاہے اسے ہی کچھ نام نہاد مسلم قائدین بدظن کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔ اب تک جن مسلم ملّی و سیاسی قائدین کے ایک ایک بیان پر حکومتوں میں ہلچل مچ جاتی تھی ، حکومتیں اپنے فیصلے بدلنے کے لئے مجبورہوجاتے تھے وہ قائدین اب دب چکے ہیں اور انکی آواز نہیں نکل رہی ہے ، اسکی ایک وجہ یہ سامنے آئی ہے کہ بھارت کے مسلم ملّی و سیاسی قائدین کا ایک بڑا حصّہ حکومت کی بلیک میلنگ کا شکار ہوچکاہے اور ان پر ای ڈی و سی بی آئی کےچھاپوں و کارروائیوں کا خطرہ منڈلارہاہے اس لئے کئی ایسے مسلم قائدین جن پر قوم کی قیادت کی ذمہ داری تھی وہ خاموشی اختیارکرچکے ہیں یا پھر حکومتوں کی تعریف میں گن گانے لگے ہیں ، کبھی بی جے پی کو دور اندیش و ذمہ دار سیاسی جماعت کا سہرا باندھا جارہاہے تو کبھی موہن بھاگوت کی بھگتی کی جارہی ہے ، کبھی عیدملن جلسوں میں مہمانان خصوصی کے طورپر بلایا جارہاہے تو کبھی انکے خیموں میں حاضری دی جارہی ہے اور اسے اخوت و بھائی چارگی ، امن کا پیغام کانام دیاجارہاہے ۔ مسلم قائدین کی سرزنش کرنا ہمارا مقصد تو نہیں لیکن انکی نگاہ میں یہ بات گوش و گزار کرنا چاہ رہے ہیں کہ اگر واقعی میں قائدین کی غلطیاں ہیں ، چندوں کے معاملات کی وجہ سے پریشان ، گمنام املاک کے معاملات ہیں ، بیرونی ممالک سے لین دین ہے ، عہدوں کے معاملات ہیں تو براہ کرم وہ اپنے عہدوں و ذمہ داریوں سے دور ہوجائیں اور ان لوگوں کو قیادت کی ذمہ داری دی جائیں جنکے نہ چندے کے دھندے ہیں نہ ہی وہ عہدوں کے بھوکے ہوں ۔ یہاں معاملہ پورے مسلم سماج کا ہے جو اس وقت بدترین حالات سے گزررہاہے، اگر صرف بات مسلم سماج کی ہوتی تو اور بات تھی بلکہ یہاں تو باقاعدہ مسلمانوں کی جان ، مسلمانوں کی شان اور مسلمانوں کو مسلمان بنانے والے پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بات ہے جن کے تعلق سے مسلسل زبان درازیاں ہورہیں ، شان میں گستاخیاں ہورہی ہیںاور تو ہین کی جارہی ہے ، اسکے علاوہ مسجدوں کاوجود خطرے میںہے ۔ شاید ٹیپو سلطان کا وہ قول مسلمان بھول چکے ہیں کہ ” گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے ” ۔، اسی طرح سے سلطان صلاح الدین ایوبی نے بھی کہا تھاکہ ” اگر حکمران اپنی زندگی کی حفاظت کو ترجیح دینے لگیں گے تو وہ اپنی قوم کی حفاظت نہیں کرسکتے ” ۔ مسلمانوں کا ماضی انکے لئے آئینہ ہے جس میںایک سے بڑھ کر ایک جرنیل گزریں ہیں لیکن یہاں سب کو اپنی فکر لگی ہوئی ہے ، کیا یہ مسلمان بھول چکے ہیں اللہ ہی سب سے بہتر حامی و ناصر ہے ۔ اگر انہیں اس پر یقین آجائے تو وہ ای ڈی اور سی بی آئی ، امیت شاہ ، یو گی اور مودی کی للکار سے نہیں ڈریں گے ۔
علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے کہ
ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق
یہ وہی قلندروں کی قوم ہے جنکے لئے ایمان ، توحید ، جہاد ، شریعت جاں سے عزیز ہے ایسے میں یوگی مودی کیا چیز ہیں ۔ موت آتی ہے لیکن ایسی موت کا کیا فائدہ جو قوم کے لئے کام نہ آئے ۔ اس وقت مسلم قائدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا محاسبہ کریں اور ہم جیسے ادنیٰ ظرف لوگوں کی قیادت کے لئے اپنے مفادات کی قربانیاں دے کر مسلمانوں کو حقیقی قائدین سے روبرو کرائیں تو شاید کچھ بات بن سکتی ہے۔
