شیموگہ:۔شہرکے ملگٹہ میں موجود سرکاری کنڑاہائی اسکول کے ہیڈماسٹرکا آج کل دربارچل رہاہے او راس دربارمیں ہیڈماسٹر اپنے آپ کو بادشاہ بنا بیٹھاہےاور اپنی من مانیوں کے ساتھ اسکول کا ماحول خراب کررہاہے۔ملگٹہ سرکاری ہائی اسکول میں کہنے کو تو بہت کم طلباء زیرتعلیم ہیں،لیکن ان طلباء میں اقلیتی طبقے سے تعلق رکھنےوالے طلباء تعصب کا شکار ہورہے ہیں۔اُما شنکرنامی ہیڈ ماسٹرکو اس اسکول میں آئے ہوئے محض ایک سال ہواہے،اس ایک سال کے دوران اس نے طلباء کو مڈڈے میل کیلئے آئے ہوئے پیسے بھی غبن کرنے کی کوشش کی،لیکن جیسے ہی اس بات کی اطلاع روزنامہ کو ہوئی تو روزنامہ نے اس تعلق سے ضلع پنچایت میں شکایت کروائی،جس کے بعد ضلع پنچایت کے افسروں نے اس معاملے کی چھان بین کیلئے محکمہ کے مڈڈے میل اسسٹنٹ ڈائریکٹر داداپیرکو ذمہ داری دی گئی۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر دادا پیرنے اس تعلق سے چھان بین شروع کی توہیڈماسٹر اُماشنکر نے اس بات کا انکشاف کیاکہ رقم2022 کے مارچ میں اسکول کے اکائونٹ میں جمع ہوئی تھی ، اس رقم کو2022 کے اگست میں بینک سے نکالا گیا لیکن طلباء میں تقسیم نہیں کی گئی،اس کی وجہ پوچھے جانے پراُماشنکرنے کہاکہ اس رقم کو اس نے اسکول کی فلاح وبہبودی کیلئے استعمال کیاہے۔اس دوران ایس ڈی ایم سی کے اہلکاروں نے بتایاکہ رقم کے آنے اور خرچ کرنے کے تعلق سے انہیں کسی بھی طرح کی اطلاع نہیں ملی ہے۔حالانکہ ہیڈماسٹر نے رقم کو تقسیم کئے بغیرہی ریسپٹ وچر میں دستخط کروائے تھے ، مگر جب چھان بین کیلئے افسر داداپیر موقع پر پہنچے اُس وقت ہیڈماسٹرنے بچوں کو رقم تقسیم کرنا شروع کیا ، یہ تو بات ہوئی مالی گھوٹالے کی،وہیں دوسری جانب ہیڈماسٹرپر الزام ہے کہ اس نے چار مسلم بچے جو ایس ایس ایل سی میں ہیں،اُن کے والدین کو کچھ بتائے بغیرہی دستخط کرواکر دو بچوں کو پرائیوئٹ سے ایس ایس ایل سی کاامتحان لکھوانے کیلئے راضی کیا تو دو بچوں کو دسویں سے نویں جماعت میں واپس بھیجا۔اس پر جب ہیڈماسٹر سے سوال کیاگیاتو اس نے بتایاکہ ان بچوں کو پڑھنا لکھنانہیں آرہاتھا،اس وجہ سے یہ قدم اٹھایاگیاہے۔قانون کے مطابق روزمرہ اسکول آنےوالے بچوں کو پرائیوئٹ سے امتحان نہیں دلوایا جاسکتا اورنہ ہی ان بچوں کو ریٹین کیا جاسکتا،باوجوداس کے ہیڈماسٹرنے محض تعصب کی بنیادپر ان بچوں کو نشانہ بنایا اور ان کے مستقبل سے کھلواڑکیا۔فی الحال اسسٹنٹ ڈائریکٹر داداپیرنے اس تعلق سے مکمل چھان بین کرتے ہوئے اس کے خلاف کارروائی کرنے کیلئے متعلقہ افسروں سے سفارش کی ہے۔
