داونگیرے:۔ملت ایجوکیشنل آینڈ ویلفیر اسوسیشن کی جانب سے ملت کیمپس میں چتردرگ مرگھا راجیندرا مٹھ کے ڈاکٹر شیومورتی سوامی کی گدی نشینی کے تیس سالہ خدمات پر اُنہے تہنیت سے نوازہ گیا ،اس موقع پر منعقد اجلا س کا افتتاح طالب علم غوثیہ بانو کے ذریعہ تلاوت کلام پاک سے کیا گیاعظمیٰ کونین نے نعت شریف پڑھی۔ملت تعلیمی ادارہ جا ت کے بانی و اعزازی سکریٹری سید سیف اُللہ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر شیومورتی سوامی اپنے اندر ایک وسیع قلب رکھتے ہیں ،ذات پات نام کی کوئی چیز اِ ن کے اندر نہیں پائی گئی وہ ہمیشہ لوگوں کو جوڑنے کا کام کرتے ہوئے آئے ہیں جس کی ایک مثال ہم سب کے سامنے ہے وہ یہ کہ 1992ء میں جب بابری مسجد کی شہادت کے بعد ملک میں جس طرح کا ماحول پیدا ہوا انسان ،انسان کے ساتھ دشمنی پر اُتر آیا شہر داونگیرہ بھی اُ سکی زد سے نہ بچ سکا ،ایسے پرفتن ماحول میں ڈاکٹر شیومورتی سوامی نے شہر میں پیدل مارچ کرتے ہوئے لوگوں میں امن و بھائی چارگی کیلئے جو کوشش کی وہ فراموش نہیں جاسکتی۔تہنیت قبول کرنے کے بعد اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر شیومورتی سوامی نے کہا انسان کو انسا نیت کے ساتھ زندگی گذارنے کی ضرورت ہےسارے انسان ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں اس بات کو نہیں بھولنا چاہیے ۔سینکڑوں سال سے اس ملک میں تمام ذات برادری کے لوگ آپسی اتحاد کے ساتھ زندگی بسر کرتے آرہے ہیں ،ہمیں چاہیے کہ کسی بھی قسم سے ہمیں بانٹنے والوں کا ساتھ نہیں دینا چاہیےاوراور ایک دوسرے سے باہمی مساوات و یکجہتی کے ساتھ رہنا ہے اسی میں ہم سب کی اور ملک کی سالمیت پوشیدہ ہے۔علم اگر انسان میں نہیں تو انسان اور حیوان میں کچھ زیادہ فرق نہیں رہتاہے،ہمیں چاہیئے کہ اپنے بچوں کی تعلیم پر زور دیں ،کھانہ ہر کوئی کھلا سکتاہے اور انسان کو اللہ رزق کسی بھی صورت پہنچا دیتا ہے،مگر علم کی چراخ جو اس علاقے میں سید سیف اُللہ نے جلائی ہے اس کو آگے لیکر چل رہے ہیں یہ آسان کام نہیں ۔شہر کی مسلم آبادی پر اِن کی جو خدمات ہیں یقیناًوہ لائق ستائش ہیں ،کھانہ کپڑا کہیں سے بھی مل سکتا ہے مگر علم ملنا آسان نہیں ۔پیغمبر اسلام ﷺنے بھی علم حاصل کرنے کو جو فوقیت دی وہ آپ لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ علم حاصل کرنے کیلئے اگر ملکِ چین تک کا سفر کرنا پڑے تو برداشت کرلو مگر علم ضرور حاصل کرو ،میرے خیال سے سید سیف اُللہ نے اس درد کو محسوس کیا اسی لئے اُنہوں نے ایک تعلیمی ادارہ قائم کیا کہ معاشی طور پسماندہ مسلم قوم کی پریشانیاں کم ہوں اور تعلیم حاصل کرلیں،آج میرے لئے انہوں نے تہنیت پیش کی ہے جس کیلئے میں اس ادارے کا بالخصوص سید سیف اُللہ کا ممنون ضرور ہوں مگر اصل تہنیت کے حقدار سید سیف اُللہ ہیں جس کی نشاندہی کرتے ہوئے پچھلے دنوں جئے دیوا مٹھ میں منعقد اجلاس میں اُنہیں مٹھ کی جانب سے تہنیت پیش کی گئی کہ معاشی تنگدستیوں میں گھری مسلم قوم کو تعلیم یا فتہ بنانے کیلئےجو محنتیں اِنہوں نے اُٹھائی ہیں وہ آسان نہیں ہیں۔ڈاکٹر شیومورتی سوامی نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کثیر تعداد میں موجود طلباء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جس مقام پر آپ طلباء ہیں یہ آپ کیلئے سنہری دور ہے(اسٹوڈینٹ لایف ایز گولڈن لایف) یقیناً یہ دور آپ کا قیمتی اور سنہرہ دور ہے،اس دور میں آپ تعلیم پر توجہ نہ دیکرسستی اور کاہلی کو اپنے اندر جگہ دی تو بربادی یقینی ہے،طلباء کو چاہئے کہ اٹینشن ،ڈسپلین اور کانسنٹریٹ ہوکر تعلیم حاصل کریں اٹینشن اور کانسنٹریشن آپ کو ضرور ڈسٹنگشن دلوائیگا ۔اجلاس سے مولانا حنیف رضاقادری ، مولانا مصطفی نعیمی،ویرکتا مٹھ کے بسواپربھو سوامی اورڈاکٹر سی آر نصیر احمد نے بھی خطاب کیا ۔پرنسپل ذاکر حُسین نے تہنیتی خطبہ پڑھا،ڈاکٹر داؤد محسن نے نظامت فرائض انجام دئیے،ہیچ محمد اقبال ،مولانا شاہد رضا ،مولانا الیاس ،عطااُللہ حقانی ،ین کے اسماعیل،شہنواز خان ،وغیرہ اجلاس میں شریک رہے یس یم گُلپا نے شکریہ ادا کیا ۔
