نوپور شرما نے توہین رسولؐ معاملہ میں گرفتاری سے راحت کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا

سلائیڈر نیشنل نیوز
 دہلی:۔بی جے پی کی سابق ترجمان نوپور شرما ،جو پیغمبر اسلامؐ کی شان اقدس میں گستاخانہ تبصرے کے بعد تنازعہ میں آئی تھیں، نے ایک بار پھر راحت کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ نوپور نے عدالت عظمیٰ سے اپنے خلاف درج مقدمات میں گرفتاری پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ نوپور نے اپیل کی ہے کہ عدالت ان کیخلاف ملک بھر میں درج مقدمات کی بیک وقت سماعت کی ہدایت جاری کرے۔غور طلب ہے کہ نوپور شرما نے مئی کے مہینے میں بی جے پی کی ترجمان رہتے ہوئے پیغمبر اسلامؐ کی شان اقدس میں گستاخانہ بیان دیا تھا۔ اس کے بعد پورے ملک میں کہرام مچ گیا۔جگہ جگہ مظاہرے ہونے لگے ، 3 جون کو نوپور کے بیان کے خلاف کانپور میں نماز جمعہ کے بعداحتجاج میں تشدد برپاکردیاگیا، 10 جون کو الٰہ آباد، رانچی، سہارنپور، ہاتھرس سمیت ملک کے کئی شہروں میں نوپور کے بیان کیخلاف احتجاج ہوا، جسے افسوسناک طریقہ سے تشدد میں بدل دیا گیا۔ اس کے علاوہ نوپور شرما کی حمایت میں پوسٹ کرنے والے دو لوگوں کو مہاراشٹر کے امراوتی میںاور راجستھان کے ادے پور میں بے دردی سے تہہ تیغ کردیاگیا تھا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق نوپور شرما کیخلاف ایک درجن سے زائد ایف آئی آر درج ہیں۔ نوپورشرما کیخلاف زیادہ تر مقدمات مغربی بنگال میں ہیں۔ ان پر مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام ہے۔ اس کے علاوہ ہنگامہ آرائی کا معاملہ بھی درج کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ممبئی میں دو، دہلی، حیدرآباد اور سری نگر میں ایک ایک کیس درج ہیں۔ نوپورشرما کیخلاف ہر جگہ مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔نوپور شرما نے گزشتہ ماہ بھی سپریم کورٹ میں بھی عرضی داخل کی تھی۔ اس میں انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ ان کے خلاف ملک بھر میں درج مقدمات کی سماعت دہلی میں کی جائے۔ نوپور نے یہ بھی کہا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے، تاہم عدالت نے نوپور کو کوئی راحت دینے سے انکار کر دیاتھا۔ سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ نوپور شرما کی طرف سے معافی مانگنے اور بیان واپس لینے میں بہت زیادہ تاخیر ہوئی ہے۔ عدالت نے کہا تھا کہ نوپور نے جس طرح سے پورے ملک میں جذبات بھڑکائے ہیں، ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے لیے وہ اکیلی ذمہ دار ہے۔ عدالت کی سرزنش کے بعد نوپور کے وکیل نے درخواست واپس لے لی تھی۔خیال رہے کہ وارانسی کی گیانواپی مسجد معاملے کو لے کر ملک بھر میں بحث چھڑی تھی۔ اسی تناظر میں 27 مئی کو ایک قومی ٹیلی ویژن نیوز چینل کے ڈبیٹ میں بی جے پی کے ترجمان کے طور پر پہنچی تھی،انہوں نے بحث کے دوران انہوں نے اسلامی عقائد کا حوالہ دیتے ہوئے گستاخانہ تبصرہ کئے تھے ،جس کے بعد تنازعہ بڑھا تو بی جے پی نے ایک بیان جاری کرکے پارٹی کی بنیادی رکنیت سے معطل کر دیا تھا۔