
شیموگہ:۔شیموگہ شہرکے سٹی سینٹرمیں عجیب واقعہ دیکھنے کو ملاہے۔بیاریس سٹی سینٹرمیں یوم آزادی کے موقع پر جشن منانے کیلئے مجاہدینِ آزادی کی تصویر لگائی تھی جن میں آر ایس ایس کےلیڈر ویرساورکر کی تصویر نمایاں طور پر دکھائی دے رہی تھی،جبکہ مہاتماگاندھی کی تصویر کو چھوٹے سائزمیں لگائی تھی اور مسلم مجاہدینِ آزادی کی ایک بھی تصویر اس نمائش میں نہیں تھی،اس بات کو لیکر مقامی لوگوں نے سخت اعتراض کیا۔سماجی کارکن آصف شریف کے علاوہ شہرکے نوجوانوں نے بیاریس مائول کے ذمہ داروں کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اس دوران انہوں نے مطالبہ کیاکہ اگر تصویریں لگاناہی ہے تو تمام حقیقی مجاہدین کی تصاویر لگائی جائیں نہ کہ برٹش کے تلوے چاٹنے والے ساورکرکی تصویر یہاں ہونی چاہیے۔اس سلسلے میں سماجی کارکن آصف شریف نے روزنامہ سے بات کرتے ہوئے کہاکہ بیاریس سٹی سینٹرمیں یوم آزادی کیلئے مجاہدین آزادکی تصاویر کی نمائش ہورہی تھی مگر اس میں ایک بھی مسلم مجاہدین آذادی کی تصویرنہیں تھی، بلکہ انگریزوں کے تلوے چاٹنے والے ساورکرکو نمایاں طورپر پیش کیا گیا ہے ۔ہم نے مطالبہ کیاہے کہ ان تصاویرمیں مولانا ابولکلام آزاد ، اشفاق اللہ خان،خان عبدالغفار خان جیسے مجاہدین آزادی کی تصاویر بھی لگائی جائے ورنہ کسی کی بھی تصویریہاں نہیں ہونی چاہیے۔بیاریس مائول نے اس سلسلے میں وضاحت دی کہ جس طرح سے ضلع انتظامیہ نے انہیں پروٹوکال کے مطابق تصویر لگانی کی ہدایت دی تھی اُنہیں کوہی لگایاجارہاہے،اس میں مائول کی مداخلت نہیں ہے۔آخرمیں ان تصاویرکو احتجاج کے بعد ہٹادیاگیااور ضلع انتظامیہ سے مشورہ کرنے کے بعد نئی تصاویر لگانے کی بات کہی گئی ہے۔شیموگہ شہر کے بیریس مال میں مجاہدین آزادی کی تصاویر میں ساورکرکی تصویر کو ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے شہر کے سیکولر نوجوانوں کا گروہ آج صبح احتجاج کرتے ہوئے اب برہمی کااظہار کیا تھا جس کے ردعمل میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے کارکنوں نےآج شام بیریس مال کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی کی اور ساورکر کی مخالفت کرنے والوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔ اس موقع پرشیموگہ کارپوریشن کی میئر نے اس احتجاج میں شرکت کرتے ہوئے کہا کہ جن لوگوں نے احتجاج کیا ہے انکے خلاف معاملہ درج کیا گیا ہے اور انہیں جلد ہی گرفتار کیا جائیگا ۔ احتجاجی بھاجپائیوں نے وندے ماترم نہ کہنے والوں کو بھارت چھوڑنے کی بھی مانگ کی اور کہا کہ بھارت میں رہنا ہے تو وندے ماترم کہنا ہوگا ۔ بتایا گیا ہے کہ آج صبح ساورکر کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 341 ، 353 اور 340 کے تحت معاملہ درج کرلیا گیا ہے ۔
