شیموگہ:(انقلاب نیوزبیورو):۔میسورمیں ایک طالبہ کی اجتماعی عصمت دری کے خلاف آج شیموگہ کی مختلف تنظیموں نے بڑے پیمانے پر احتجاج کیااور خطاکاروں کوجلد سے جلد گرفتارکرنےاور ان پر سخت کارروائی کرنے کا مطالب کیاہے۔ریاست میں لڑکیوں کو تحفظ فراہم نہیں کیاجارہاہے،جن قصوراروں کو لڑکی کی عصمت دری کی ہے انہیں فوری طور پر گرفتارکرنے کا مطالبہ این ایس یو آئی کے کارکنوں نے کیاہے۔ریاست میں خواتین پر ظلم کی وارداتیں زیادہ ہورہی ہیں،ریاستی حکومت انتظامیائی امورمیں ناکام ہوئی ہے،نظم ونسق پوری طرح سے متاثر ہوا ہے ۔ اس احتجاج میں کانگریس کے محمد نہال ، چیتن، ونئے ، عبدال،چندروجی رائو وغیرہ موجودتھے۔اسی دوران بی جے پی مہیلا مورچہ کی طرف سے بھی احتجاج کیاگیا،جس میں کہاگیاہے کہ میسورمیں ہونے والی واردات قابل مذمت ہے یہ ساری انسانیت کوشرمسارکرنے والی بات ہے،وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی فوری طور پر اس جانب توجہ دیں اور پولیس کو سخت احکامات دیں کہ وہ فوری طورپر کارروائی کریں۔اس احتجاج میں بی جے پی مہیلا مورچہ کی صدر سریکھامرلی دھر،رشمی،آرتی،جگدیش وغیرہ وموجودتھے۔اسی طرح شہرکے آٹو مالکان یونین کی جانب سے بھی احتجاج کیاگیا،احتجاجی آٹو مالکان نے مطالبہ کیاکہ جن لوگوں نےلڑکی کی عصمت دری کی ہے انہیں فوری طورپر گرفتارکیاجائے اور پھانسی کی سزا سنائی جائے،یہ عمل انسانیت کوشرمسارکرنے والاہے،حکومت فوری طور پر اس جانب توجہ دے۔اس احتجاج کی قیادت انور احمدانو،صدر اصغر باشاہ،اللہ بخش،اقبال،ناگ بھوشن،گرو،عادل،پرشانت وغیرہ موجودتھے۔بھارتیہ مزدروکانگریس کی جانب سے احتجاج کیاگیا جس میں ڈپٹی کمشنر کو یادداشت پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیاگیاکہ حکومت نظم ونسق کو بہتربنانے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے،عصمت دری کےواقعات کو انجام دینے والے ملزمان کو جلد ازجلد گرفتارکیاجائے اور انہیں پھانسی کی سزادی جائے۔اس موقع پر دیویندرپا،نہال،تجمل وغیرہ موجودتھے۔
