بائیکاٹ کا راز !!

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر نمایاں

از قلم : مدثراحمد شیموگہ۔9986437327
اگر ہم اس وقت کی نسلوں خصوصََا مسلم نسلیں جنکی عمریں 15-50 سال کے درمیان ہیں ان سے پوچھیں کہ زندگی کیا ہے تو آپ کو اس کا کوئی سیریز جواب نہیں ملے گا ، دراصل اس نسل نے زندگی کو سوشیل میڈیا کے حوالے کردیا ہے جہاں پر ہر کسی چیزکو جانے ، سوچے ، پہچانے بغیر لائک ، کمنٹس، شیئر کر نا فرض سمجھاجارہاہے اور ہر کام صرف سوشیل میڈیا پر کیا جارہاہے اور حقیقی زندگی میں کوئی بھی عمل نہیں ہورہاہے ۔ غور کریں کہ ہم نے دین سے لے کر دنیا تک ، تعلیم سے لے کر عمل تک اور اچھائی سے لے کر برائی تک کو سوشیل میڈیا میں بسا کر اپنے آپ کو ذمہ داریوں سے خارج کررکھاہے ۔ اس وقت مسلمانوں کے جو حالات ہیں ان حالات کا تجزیہ کرنا اور حالات کو بیان کرنا اسی بات کے مصداق ہوگا جیسا کہ سورج کا لوگوں کے سامنے تعارف کروانا !!۔اس وقت بھارت کے حالات تیزی کے ساتھ بدل رہے ہیں اور خطرے اس قدر بڑھنے لگے ہیں کہ سایہ سے بھی خوف لگنے لگا ہے ۔ حالات کی پیچیدگیوں کو سمجھنے ، مسائل کو حل کرنے اور یہاں تک کہ مسائل کی شناخت کرنے کے لئے بھی مسلمانوں کے پاس استطاعت نہیں ہے ۔ یا تو مسلمان جذباتی ہوجاتے ہیں یا پھر لاپرواہی کی زندگی گزاررہے ہیں ۔ ہر دن ایک نہ ایک مسئلہ عیارو سنگھ پریوار کھڑا کررہے ہیں اور ہر دن مسلمانوں سے ایک قدم آگے بڑھ کر وہ کام کررہے ہیں لیکن مسلمان تو ہر کام سوشیل میڈیا پر کررہاہے ۔ پچھلے دنوں کرناٹک میںحجاب کا مسئلہ جیسے ہی زور پکڑنے لگا اس وقت مسلمانوں کی جو ملی قیادت تھی وہ تو سوتی رہی ، وہیں کچھ گمراہ کن لوگوںنے اس مسئلے کو مزید بگاڑتے ہوئے ایک کالج کے مسئلے کو ملک کا مسئلہ بنادیا تھا ، اس وقت مسلمان پورے جوش و جذبے کے ساتھ حجاب سے جڑنے والے معاملات کو سوشیل میڈیا پر لائک ، شیئر اور کمنٹس کرنے پر مصروف تھے ، رات رات بھر ، دن بھر حجاب کے تعلق سے آنے والے ویڈیوز کو لائک کرنا ، ان ویڈیوز کو جذباتی میوزک کے سہارے شیئر کرنا شیوہ بن گیا تھا ۔ جہاں پر عمل کی ضرورت تھی وہاں پر سوشیل میڈیا پر تبصرے کئے جارہے تھے ۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ قوم بے قوف ہے ، سمجھدار ہے ، جذباتی ہے ، جاہل ہے یا پھر جان بوجھ کر حماقتیں کرتی ہے ۔ حجاب کا مسئلہ تھمانہیں کہ ایک اور مدعا سوشیل میڈیا پر پوری رازداری کے ساتھ شیئر کیے جانے لگے ۔اب بات ہورہی ہے کہ مسلمان غیر مسلم تاجروں کا بائیکاٹ کریں اور انکے کاروبار اور معاشی حالات کو کمزور کریں ۔ اگر واقعی میں بائیکا ٹ کرنا ہی ہے تو اسکے لئے تیاریاں ، رازدای اور حکمت کی ضرورت ہے ، ایسا نہیں کہ اٹھے اٹھے بیٹھے بیٹھے سوشیل میڈیا پر کچھ لائن لکھ کر پوسٹ کردیں اور اس پر سب عمل کردیں ۔ حالانکہ اللہ کے رسول ﷺ کے دور میں بھی یہودیوں کے کاروبارکا بائیکاٹ ہوا تھا اور اس کے لئے اللہ کے رسول ﷺ نے حکمت کے ساتھ کام کیا تھا۔ لیکن یہاں نہ تو حکمت کااستعمال ہورہاہے نہ ہی اتحاد کا معاملہ ہے اور نہ ہی کوئی منظم منصوبہ بندی ہوتی ہے ۔ سوشیل میڈیا میں پوسٹ ڈال کر جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ باتیں صرف مسلمان ہی پڑھیں گے اور غیر مسلموں تک یہ باتیں نہیں جائینگی تو یہ ایک طرح کی غلط فہمی ہے ۔مسلمان سوشیل میڈیا پر وقت گزاری کے لئے مصروف رہتے ہونگے لیکن سنگھ پریوار مسلمانوں پر نظر رکھنے کے لئے سوشیل میڈیا پر نگاہیں جمائے ہوئے رہتاہے ۔ ساری دنیا کے سامنے اپنی بات رکھ کر یہ گمان کرنا کہ ہماری باتیں کوئی نہیں سن رہاہے تو یہ سوائے بے وقوفی کے اور کچھ نہیں ہے ۔ امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں تیرا راز تیرا اسیر ہے، جب اسے فاش کردیتے ہو تو تم اُس کے اسیر بن جاتے ہو۔انسان اپنا راز جس شخص کے سپرد کرتا ہے وہ شخص اتنا امین ہونا چاہیے کہ اُس کے پاس ناموس امانت کے طور پر رکھی جا سکے۔ اور اس کی حفاظت کرنے کے بارے میں اسے اتنا محتاط ہونا چاہیے جتنا خود اپنی ناموس کی حفاظت کے لئے محتاط ہوتا ہے۔ اِمانت کسی ایسے ناقابلِ اعتبار شخص کے سپرد نہیں کرنی چاہیے جو امین نہ ہو اور راز ایسے شخص کے سپرد نہیں کرنا چاہیے جو راز کو ناموس نہ سمجھے۔اسی طرح سے راز کے سلسلے میں قرآن پاک میں اللہ نے کہاہےکہ "ناب یوسف (علیہ السلام) کی جان کو خطرہ لاحق تھا، (یوسف؛ ۵) اے بیٹے اپنے خواب کو اپنے بھائیوں کے سامنے بیان مت کرنا، ممکن ہے وہ تمہارے لئے کوئی خطرہ کھڑا کرے یا کوئی جال بچھادے، بے شک شیطان انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے۔ایسے میں مسلمان اپنے راز کو چار دیواری نہیں بلکہ چار چار ہزار لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہوئے رازداری کی توقع کرتے ہیں ۔ سوشیل میڈیا رازداری یا حکمت دکھانے کی چیز نہیں بلکہ سوشیل میڈیا کھولی ہوئی باتوں کو پھیلانے کا کام کرتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج مسلمانوں کی ہر چال کو عمل سے پہلے سے جہل بھانپ لیتے ہیں اور مسلمانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں