گلوبل انویسٹمنٹ پروجیکٹ کو منسوخ کریں،یہ کسانوں کی زمینیں لوٹنے کی سازش ہے:رئیترسنگھا

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔کسانوں کی زندگی پر منفی اثرات پیدا کرنےوالے گلوبل انویسٹمنٹ پروجیکٹ کوریاستی حکومت منسوخ کرے۔اس بات کامطالبہ کرناٹکا راجیہ رائیتر سنگھااور ہسیرو سیناکے کارکنوں نے آج ڈپٹی کمشنرکے بالمقابل کیاہے۔انہوں نے اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ کو یادداشت بھی پیش کی ہے۔حکومت روزگارپیدا کرنے کے نام پر کسانوں کی زمینوں کو کارپوریٹ کمپنیوں کے حوالے کررہی ہے،اس وجہ سے ہی ریاست میں گلوبل انویسٹمنٹ پروجیکٹ بنایاجارہا ہے ۔فوری طورپرحکومت اس پروجیکٹ کو منسوخ کرے ۔ زمینوں سے صرف کسانوں کافائدہ نہیں ہورہاہے بلکہ پانی،بجلی اور زندگی دینے والی زمینوں کو سرمایہ کاروں کے حوالے کیاجارہا ہے ۔ 2تا4 نومبرتک بنگلورومیں گلوبل انویسٹمنٹ کیلئے دنیا کے مختلف ممالک سے کمپنیوں کومدعوکیاگیاہے،عام طورپر انتخابات ہونے کے قریب ایسے پروجیکٹس لائے جاتے ہیں اور عوام کو یہ کہہ کر گمراہ کیا جاتاہے کہ ہم روزگارکے مواقع پیدا کررہے ہیں ۔ ریاست کے نوجوانوں کو ایسے منصوبوں سےکوئی فائدہ نہیں ہوگا،بلکہ کمپنیاں بنانے کے بعد دوسرے علاقوں کے لوگ ان کمپنیوں میں روزگارحاصل کرینگے۔کسانوں نے مزید الزام لگایاکہ یہ سب کسانوں کی زمینیں ہڑپنے کی سازش ہے،پہلے ہی حکومت کے افسران،وزراءمختلف ممالک کا چکر لگاکر وہاں اس بات کی تشہیر کرآئے ہیں کہ ہمارے پاس زمینیں ہیں آپ وہاں انویسٹمنٹ کریں، اس وجہ سے ملک میں بیرونی ممالک کے لوگ سرمایہ کاری کیلئے آگے آئے ہیں۔کسانوں نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ وہ ان منصوبوں کو چھوڑکر کسانوں کی فلاح وبہبودی کیلئےکام کریں۔پچھلے دس سالوں سے ریاست میں کتنی صنعتیں آئی ہیں اور کتنی زمین ان صنعتکاروں کودی گئی ہے،کتنے نوجوانوں کوروزگار دیاگیاہے،حکومت اس تعلق سے تفصیلات ظاہرکے۔اس احتجاج  میں ریاستی صدر ایچ آر بسوراجپا،ٹی ایم چندرپا،ہٹورراجو ، ایرنا ، شیومورتی،منجپا وغیرہ موجودتھے۔