سلائیڈر نیشنل نیوز

چھ ریاستوں میں ۱۳؍ مقاما ت پر این آئی اے کے چھاپے
بھٹکل سے ایک نوجوان گرفتار، داعش کے لٹریچر کا ترجمہ کرنے کا لگاالزام
مدھیہ پردیش، یوپی، بہار، کرناٹک اور مہاراشٹرکےکولہا پور ناندیڑ میں’داعش‘ کے مشتبہ ایجنٹوں کی تلاش، کئی حراست میں، دارالعلوم دیوبند کے طالب علم سے ۸؍ گھنٹے تک پوچھ تاچھ


ممبئی/بھٹکل :۔۳۱؍ جولائی: (اسٹاف رپورٹر) قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے) نے ملک کی چھ ریاستوں میں ۱۳؍ مختلف مقامات پر آج چھاپہ ماری کی ہے۔ یہ چھاپہ ماری آئی ایس آئی ایس سے منسلک مشتبہ سرگرمیوں کو لے کر کی گئی ہے۔مشتبہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کے معاملے میں این آئی اے کے ذریعہ ۲۵ جون ۲۰۲۲ کو آئی پی سی کی دفعہ ۱۵۳ اے، اور ۱۵۳ بی اور یو اے (پی) ایکٹ کے تحت دفعہ ۱۸، ۱۸ بی، اور ۴۰ کے تحت معاملہ درج کیاگیا تھا۔ این آئی اے نے جن ریاستوں میں چھاپے ماری کی ہے ان میں مدھیہ پردیش، گجرات، بہار، کرناٹک، مہاراشٹر اور اترپردیش شامل ہیں۔ ایجنسی نے مدھیہ پردیش کے بھوپال، رائے سین، گجرات کے بھروچ، سورت، نوساری، احمد آباد، بہار کے ارریہ، کرناٹک کے بھٹکل، ٹنکر، مہاراشٹر کے کولہا پور ناندیڑ اور اترپردیش کے دیوبند میں چھاپے ماری کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب تک کئی لوگوں کو حراست میں لیاجاچکا ہے، علاقوں میں سخت سیکوریٹی تعینات کی گئی تھی، اب تک کی تلاش میں قابل اعتراض دستاویز برآمد کرنے کا دعویٰ کیاگیا ہے۔ معاملے کی مزید تفتیش چل رہی ہے۔ بھٹکل کے ایک نوجوان محمد مقتدع کو ین آئی اے کی بنگلور اور دہلی سے آئی ہوئی ٹیموں نےانہیں انکے گھر سے حراست میں لیا ہے، مقتدر کے تعلق سے کہا جارہا ہے کہ وہ بھٹکل میں لککی پرنٹرکے نام سے پرنٹنگ پریس چلایا کرتاہے اس پر ین آئی اے نے الزام لگایاہے کہ وہ داعش سے متعلقہ لٹریچر کو اردو میں ترجمہ کرتے ہوئے داعش کی مدد کرتارہاہے۔ 30 سالہ مقتدر کو گرفتار کئے جانے کے سلسلے میں کرناٹکا پولیس نے ابھی تک کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیاہے۔۔
آکولہا پور اور ناندیڑ میں کارروائی کرتے ہوئے این آئی اے نے آج صبح رینڈال ہاتھ کنگلے کے امبا بائی نگر میں چھاپہ مارا اور آئی ایس آئی ایس سے تعلق رکھنے کے شبہ میں پوچھ کچھ کے لیے دو حقیقی بھائیوں کو حراست میں لے لیا۔ تقریبا پانچ گھنٹے تک ان کے گھر میں تلاشی جاری رہی۔ معلوم ہوا ہے کہ کولہاپور کے ایک مقام پر ان دونوں سے تفتیش کی جارہی ہے۔متعلقہ نوجوان کا تعلق اصل میں اچل کر نجی سے ہے اور وہ کاروباری مقاصد کے لیے ہپری رینڈال میں مقیم ہے۔ اس کا کاروبار چاندی کے زیورات بنانے کا ہے۔ این آئی اے کا دعوی ہے کہ انکے ممبئی میں روابط ہیں اور گزشتہ تین سالوں سے وہ لبیک فاؤنڈیشن کے ذریعے سماجی کاموں کا احاطہ کرنے کے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ امبا بائی نگر کے ان مکانات پر جہاں یہ دونوں بھائی رہتے ہیں آج صبح ساڑھے چار بجے چھاپہ مارا گیا اور دونوں بھائیوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ دیوبند سے سمیر چودھری کی رپورٹ کے مطابق آج علی الصبح دیوبند میں این آئی اے اوریوپی اے ٹی ایس نے ایک مشترکہ کارروائی کے دوران دارالعلوم دیوبند میں زیر تعلیم ایک طالبعلم کو پوچھ تاچھ کے لئے حراست میں لیاتھا، جسے کئی گھنٹے کے پوچھ تاچھ کے بعد چھوڑ دیاگیا۔ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم نے اس کی تصدیق کی ہے،انہوںنے کہاکہ ایجنسی نے طالبعلم کو شک کی بنیاد پر اٹھایا تھا اور اس سے کافی دیر پوچھ تاچھ میں وہ بے قصور ثابت ہوا،جس کے بعد اسے چھوڑ دیاگیا۔ اطلاع کے مطابق یہ طالبعلم کرناٹک کا رہنے والا ہے ،جسے شک کی بنیاد صبح ایجنسیوں کے ذریعہ حراست میں لیاگیا تھا۔ یوم آزادی کے ٹھیک پہلے دیوبند میں کی گئی این آئی اے اور اے ٹی ایس کی اس کارروائی سے کھلبلی مچ گئی تھی ،لیکن دوپہر بعد طالبعلم کے چھوڑے جانے کے بعد یہاں انتظامیہ نے بھی راحت کی سانس لی ہے، حالانکہ ذرائع کے مطابق ملک کے مختلف مقامات پر این آئی کی چھاپہ ماری کے بعد کسی مشتبہ سرگرمیوں کے سبب اس طالبعلم کوحراست میںلیاگیا تھا،جس سے تقریباً آٹھ گھنٹے کی پوچھ تاچھ کے بعد چھوڑ دیاگیا۔ایس ایس پی سہارنپور کے مطابق یہ کارروائی این آئی اے نے کی ہے اور پولیس اس سلسلہ میں کوئی معلومات نہیںدے سکتی ۔ دریں اثناء گجرات اے ٹی ایس نے کہاکہ تین لوگوں سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے لیکن ابھی تک انکشاف کرنے کےلیے کچھ نہیں ہے۔مدھیہ پردیش کی راجدھانی سمیت رائے سین میں چھاپہ ماری کے دوران دولوگوں کو گرفتار کیاگیا ہے۔ این آئی اے کی ٹیم بھوپال اور رائے سین کے سلوانی میں ایک ساتھ پہنچی، بارہ رکنی ٹیم نئی دہلی سے آئی تھی، ٹیم نے سلوانی نگر کے وارڈ نمبر ۱۲ نورپورہ میں صبح سات بجے سے ۱۰ بجے تک چھاپہ ماری کی، ٹیم نورپورہ میں زبیر ولد شفیق منصوری کے گھر پہنچی یہاں پتہ چلا کہ زبیر بھوپال کے مدرسے میں پڑھائی کررہا ہے۔ معلومات کے مطابق این آئی نے بھوپال کے گاندھی نگر کے عباس نگر میں چھاپہ ماری کی، یہاں سے حافظ انس نام کے ایک شخص کو گرفتار کیا ہے، حالانکہ این آئی اے کی ٹیم انس کے بڑے بھائی کو حراست میں لینے گئی تھی، لیکن وہ سوئزر لینڈ گیا ہوا ہے، اس درمیان این آئی اے کی ٹیم نے تاج المساجد احاطہ سے زبیر کو بھی حراست میں لے لیا۔