پٹیالہ:تقسیم ِ ہند کے موقعہ پر ویران ہوئی گاؤں دوتل کی مسجد میں 75 سال بعد نماز کی ادائیگی

سلائیڈر نیشنل نیوز
پٹیالہ :۔پنجاب کی سرزمین پٹیالہ میں گذشتہ روز ایک تاریخی منظر دیکھنے کو ملا ، جب کہ دوتل کی ایک غیر آباد مسجد میں 75 سال بعد نماز ادا کی گئی۔ مجلس احرار اسلام ہند کے صدرریاست پنجاب کے شاہی امام مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی نے پٹیالہ ضلع کے دوتل گاوں کی مسجد میں نماز ادا کی۔اس موقع پر مختلف مذاہب کے لوگ مسجد کے احاطے میں جمع ہوئے، جہاں شاہی امام مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی نے خیر سگالی اور بھائی چارے کے موضوع پر خالص پنجابی زبان میں تقریر کی۔لوگوں نے اس تقریر کو بہت پسند کیا۔بتایا جاتا ہے کہ یہ مسجد گذشتہ 75 سالوں سے غیر آباد تھی۔ آزادی سے قبل یہاں نماز ادا کی جاتی تھی۔ اس کے بعد سے یہ بند پڑی تھی۔تاہم مجلس احرار کی کوششوں سے یہ مسجد دوبارہ آباد ہونے جا رہی ہے۔مسجداب بھی بہتر حالت میں ہے۔ مسجد کے ممبر و محراب سلامت ہیں۔ دیواروں پر مختلف رنگوں سے خوبصورت نقاشی کی گئی، جو کہ سنگ تراش کی فنی مہارت کو عیاں کرتی ہے۔مجلس احرار کے اس مستحسن قدم سے سکھ برادری میں بھی جوش و خروش دکھائی دیا۔ انہوں نے والہانہ انداز میں شاہی امام کا خیر مقدم کیا۔مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانوی نے بتایا کہ آج کا دن رحمتوں اور برکتوں کا دن ہے، انہوں نے کہا کہ آج جس محبت اور جوش و جذبے کے ساتھ گاؤں کے لوگوں نے ان کا ساتھ دیا، ان کا استقبال کیا، اسے دیکھ کر وہ وقت یاد آگیا۔ جب 1857میں پنجاب کے عظیم انقلابی بزرگ امام العارفین مولانا شاہ عبدالقاد ر لدھیانوی کی راجپوت برادری نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر انگریز فوج سے لڑے تھے ۔ واضح ہوکہ1857 میں ہندوستان کی پہلی جنگ آزادی میں مولانا شاہ عبدالقادر لدھیانوی پورے پنجاب سے انقلابی افواج کے ساتھ دہلی گئے جہاں انہوں نے مغل جرنیل بخت خان کے ساتھ مل کرانگریزوں کے خلاف جنگ لڑی۔اسی دوران شاہ عبدالقادر لدھیانوی نے انگریزوں کے خلاف پہلا فتویٰ بھی دیا۔ 1860میں ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کا مقبرہ جو آج بھی موجود ہے۔ شاہی امام نے کہا کہ شاہ عبدالقادر لدھیانوی اور ان کے خاندان کے افراد جو افراد مشہور ہوئے، ان میں پنجاب کے معروف اسلامی اسکالر مولانا شاہ محمد لدھیانوی کا نام بھی شامل ہے۔ شاہی امام پنجاب مولانا محمد عثمان رحمانی لدھیانہ کے گاؤں دوتل پہنچنے کے ساتھ ہی، عقیدت و احترام کے ساتھ ظہر کی نماز ادا کی گئی۔ شاہی امام پنجاب نے خود نماز پڑھائی۔ شاہی امام کے پہنچنے سے قبل ہی مسجد کی صاف صفائی کرالی گئی تھی، اس موقع پر قرب و جوار کے مسلمان بھی جمع ہوئے تھے۔