بنگلورو:۔ریاستی حکومت نے گائوکشی کا جو قانون جاری کیا ہے ، اُسے منسوخ کرنے کیلئے دائرکردہ عرضی پر اگر ریاستی حکومت فوری طو رپر اعتراض درج نہیں کرتی ہے تو ہم اس قانون کو منسوخ کردینگے،یہ وارننگ کرناٹکا ہائی کورٹ نےریاستی حکومت کو دی ہے۔سماجی کارکن عارف جمیل سمیت کچھ رضاکاروں نے کرناٹکا ہائی کورٹ میں گائوکشی قانون کو منسوخ کرنے کیلئے پی آئی ایل دائرکی تھی جس کی سنوائی کرناٹکا کورٹ کی ذیلی بینچ کررہی ہے۔حکومت کی طرف سے وکالت کرنےو الے وکیل نے عدالت کو بتایاکہ کورونا کی وباء کی وجہ سے اعتراضات کے نکات کوحتمی شکل دینا ممکن نہیں ہوپارہاہے،اس لئے اعتراضات دائرکرنے کیلئے مزید مہلت دی جائے۔عرضی گذارکی طرف سے وکالت کرنے والے سابق اڈوکیٹ جنرل پروفیسر روی ورما کمارنے عدالت کو بتایاکہ ریاستی حکومت خوامخواہ جواب دائرکرنے میں تاخیر کررہی ہے،کوروناکو وجہ بتاکر تاخیر کی جارہی ہے ، کورونا اور حکومت کے جواب میں کوئی تعلق ہی نہیں ہے ، اس کے علاوہ عدالت کو حکومت نے یقین دلایاتھاکہ گائوکشی کے تعلق سےسنوائی ہونے تک ریاستی حکومت گائے خریدنے وفروخت کرنے کے معاملے میں مداخلت نہیں کریگی،باوجود اس کے اب تک پچاس سے زائد معاملات پولیس نے درج کرلئے ہیں،تو یہ عدالت کی ایک طرح سے توہین ہی ہوئی ہے۔وکلاء کی بحث سننے کے بعد عدالت نے حکومت کو آخری موقع دیتے ہوئے کہاکہ اگر حکومت جواب دائر نہیں کرتی ہے تو عرضی گذارکے مطابق قانون کو منسو خ کرنے کیلئے احکامات جاری کئے جائینگے ۔ اس معاملے کی اگلی سنوائی 9/جون کو ہوگی۔
