دہشت گردی کیخلاف جنگ کسی مذہب یا تہذیب کیخلاف ’جنگ ‘نہیں: علماء

نیشنل نیوز

پونچھ:۔کسی بھی مہذب معاشرے اور پرامن بقائے باہمی میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ پائیدار امن فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارے کے بغیر کوئی ترقی اور پیشرفت ممکن نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی مذہب یا تہذیب کے خلاف جنگ نہیں ہے۔ان خیالات کا اظہار پونچھ میں میںدانشوروں منعقد ایک سمینار میں علما اور دانشوروں نے کیا- نوجوانوں کے لیے تشدد کا راستہ ترک کرنے اور امن اور روشن خیالی کی مشعل بردار بننے کے پیغام کے ساتھ سمینار اختتام پذیر ہوا۔’’حقیقی اسلام انسانیت کا ستون ہے‘‘ کے موضوع پر ایک روزہ سیمینار میں مولوی صاحبان اور مفتی صاحبان کے ساتھ ساتھ خواتین اور نوجوانوں سمیت مقامی لوگوں کی بڑی تعداد منے شرکت کی۔جموں وکشمیر پیپلز جسٹس فرنٹ کے سربراہ آغا سید عباس رضوی نے سیمینار کو ایک تاریخی لمحہ قرار دیا اور یہاں پونچھ میں حقی اسلام محور انسانیت کی تبلیغ میں مذہبی رہنماؤں کے کردار پر بات کرنے کی کوششوں کو سراہا۔عباس رضوی نے او آئی سی میں ہندوستان کو نمائندگی دینے میں غیر ضروری تاخیر پر اسلامی تعاون تنظیم کی تنقید بھی کی۔انہوں نے کہاکہ او آئی سی کو ہندوستان میں 185 ملین مسلمانوں کی موجودگی آپسی اخلاقیات مذہبی رواداری اور تمام مذاہب کے یکساں احترام میں ان کے تعاون کو تسلیم کرنا چاہیے۔رضوی نے کہاکہ انہیں امید ہے کہ او آئی سی ایسے عناصر کی حوصلہ افزائی نہیں کرے گاجو دہشت گردی کو فروغ دیتے ہیں، ہندوستان کو نشانہ بناتے ہیں۔رضوی نے مزید کہا امن، مساوات اور انصاف کی اسلامی اقدار بندوستانی تہذیب کا بنیادی جزو ہے۔ اسلامی ممالک جو اسلام کے ساتھی پیروکاروں کو نشانہ بناتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی زور دے کر کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کسی مذہب یا تہذیب کے خلاف جنگ نہیں ہے۔ڈاکٹر شبیر حسین نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردی جیسی لاعلاج بیماری کو کسی خاص مذہب سے نہ جوڑیں۔ مذہب کا غلط استعمال دہشت گردی کو مذہب سے جوڑتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ اور ممبئی دہشت گردانہ حملے دہشت گردی کے سیاہ چہرے ہیں جو اسلام کی بدنامی کر رہے ہیں جبکہ اسلام کا اس طرح کے تشدد کے واقعات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔