حافظ کرناٹکی کے ہاتھوں مُحسنِ ادب ڈاکٹر داؤد مُحسن شخصیت و فن کتاب کا رسم اجراء

اسٹیٹ نیوز
داونگیرے:۔شہر کےسرکاری ملازمین بھون میں پروفیسر یس یم عقیل سابق چیرمن شعبہء اُردو کوئمپو یونیورسٹی کی صدارت میں محفلِ جشنِ داؤد مُحسن کا نعقاد کیا گیا۔اس موقع پر مولوی ابراہیم خلیل اُللہ کےذریعہ تلاوتِ کلامِ پاک ،یس یم صادق اُللہ نے نعتِ پیش کیا ، طاہر رحمانی نے نظم پیش کی،شکیل احمد طاہر نے مہمانوں کا استقبال کیا ۔اِس کے بعد کرناٹک اُردو اکاڈمی کےسابق چیرمن ڈاکٹر امجد حُسین المعروف حافظ کرناٹکی کے ہاتھوں مُحسنِ ادب ڈاکٹر داؤد مُحسن شخصیت و فن کتاب کا رسم ِ اجراء کیا گیا،داکٹر بی داؤد مُحسن شہر کے یس کے اے ہیچ ملت پی یو سی کالیج کے پرنسپل رہے ،35 سالوں سے درس و تدریس کا کام انجام دیتے رہے،ساتھ ہی ساتھ اُردو ادب سے خاصی لگاؤ رہا 35 سالو ں یس کے اے ہیچ ملت پی یو کالیج میں خدمت انجام دینے کے بعد 31 ڈسمبر کو سبکدوش ہوئے ،اور ایک دن بعد یکم جنوری  میزان ایجوکیشنل ٹرسٹ کی جانب سے اُنہیں وظیفہ یابی پر اُن کی 35 سالہ خدمات کے اعتراف میں میزان ایجوکیشنل ٹرسٹ کی جانب سے اُنہیں تہنیت پیش کرنے اس محفل کا انعقاد کیا گیا ،کتاب کی رسمِ اجرائی کے بعد حافظ کرناٹکی خطاب کرتے ہوئے اُن کی ادبی سفر کی سراہنا کرتے ہوئے  اُردو زبان کی اہمیت وافادیت پرتفصیلی روشنی ڈالی اور اس کتاب کی تدوین میں اُن کے فرزند اور بیٹی داماو کے کردار کی ستائش کی ، داکٹر آفاق عالم صدیقی صدر شعبہ اُردوزُبیدہ ڈگری کالج شکاری پور نے ڈاکٹر بی داؤد مُحسن ،اوراُن کی ادبی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کتاب مُحسن ادب داکٹر داؤد مُحسن شخصیت و فن  پر تبصرہ پیش کیا ،سید مُنیر احمد دل نے نظم پیش کی ، سرقاضی سید قمرالدین قمر نے کتاب پر تبصرہ پیش کیا اور ڈاکٹر داؤد مُحسن کو لائق فائق اولاد کی مبارک باد دی،اس کے بعد داکتر بی داؤد مُحسن کو 35 سالہ بطور لکچرار اور پھر پرنسپل کی ذمہ داری نبھانے کے ذمہ داری سے سبکدوشی پر اُنہیے تہنیت سے نوازہ گیا، مہمان اعزازی رُکن قانون ساز کونسل و کے پی سی سی صدر شعبہ اقلیت کے عبدالجبارنے خطاب کرتے ہوئے داؤد مُحسن پر مزید ذمہ داری کا احساس دِلایا اور کہا کہ اب تک بچوں کو پڑھاتے رہے مگر قوم میں پائی جانے والی بے راہ روئی اور قوم کومنظم کرنے کیلئے اب آپ کو بڑوں کاو پڑھانا ہوگا ،اتحاد کے بغیر ملک میں اب مسلم قوم کا کوئی وزن باقی رہ نہیں پائیگا ،اس کا م کو اب قوم کےاہل فہم اہل دانش افراد وظیفہ یابی کے بعد اپنی ذمہ داری تصور کرتے ہوئے کرنے کی ضرورت ہے،مہمان اعزازی بانی ملت تعلیمی ادارہ جات سید سیف اُللہ  نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اب سے پہلے قوم میں بہت ساری تنظیمیں ہوا کرتی تھی مگر اب بہت سار ی تنظیموں میں کاروباری سوچ جنم لے رہی ہے،یہی وجہ ہے کہ مقابلہ جاتی تعلیمی دور میں مسلم قوم وسائل کے ہوتے ہوئے اب بھی بہت پیچھے ہے،داؤد مُحسن ایک قابل لکچرار اور اُردو ادب کی وجہ سے ملک بھر میں ایک پہچان رکھتے ہیں عہدے سبکدوشی کے بعد وہ مزید کام کرسکتے ہیں اور انہیے کرنا ہوگا  ملت ادارے کے دروازے ہمیشہ اُن کے استقبال کیلئےہیں ،اپنے ساتھ دیگر اہل فہم احباب کو ساتھ لیکرقوم میں پائی جانے والی تعلیمی پسماندگی کو دور کرتے ہوئے قوم کو ایک جٹ کرنےکیلئے ادارہ اُن کا بھر پور تعاؤن کرنے کیلئے تیار رہے گا،یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ داؤد مُحسن کی زندگی میں ہی اُن پر تحقیقی کام شروع ہوچکا ہے اور ملک کی دو یونیورسٹیوں میں اُن کی شخصیت پر پی ہیچ ڈی کی جاری ہے، داونگیرے اسمارٹ سٹی منیجنگ ڈائرکٹر رواویندر ملاپور ،ڈی ڈی پی یو شیوراجو یم ، ڈی ڈی پی یو گدگ اور سابق صدر پی یو پرنسپل اسوسیشن ، کرناٹکا اسٹیٹ گورنمنٹ ایمپلائز اسوسیشن صدر پالاکشی  بی ،پی یو لکچرار اسوسیشن صدر روئی سی بی نےبھی اس موقع پر اپنے خیلات کا اظہار کیا ،ڈاکٹر یس یم عقیل جو اس محفل کی صدارت کررہے تھے اپنی صدارتی تقریر میں ڈاکٹر بی داؤد مُحسن کی ادبی سفر پر روشی ڈالتے ہوئے کہا کہ انسان کی زندگی میں اُس پر تحقیق نا مکمل ہوگی لہذاء داؤد مُحسن پر پی ہیچ ڈی نامکمل ہوگی اور اس طرح سے پی ہچ ڈی کوئی معنی نہیں رکھتی یہ الگ بات ہے کہیں ہورہی ہے یہ اُن کا اپنا معاملہ ہے میں تو اس سے اتفاق نہیں رکھتا ،اختتام پر داود محسن نے انہیں تہنیت کرنے والے اُن کی کتاب کی رسم اجراء انجام دینے والےاور اس محفل میں شریک تمام کا شکریہ ادا کیا ۔