اگر سب ٹھیک ہے تو ہر سال لاکھوں ہندوستانی اپنی شہریت کیوں چھوڑ رہے؟‘ این سی پی کا مودی حکومت سے سوال

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) نے مودی حکومت سے سوال کیا ہے کہ اگر وہ دعویٰ کرتی ہے کہ ملک میں سب ٹھیک ہے تو بڑی تعداد میں ہندوستانی شہری ملک کیوں چھوڑ رہے ہیں۔ این سی پی ترجمان کلائیڈ کریسٹو کا یہ تلخ رد عمل تب سامنے آیا ہے جب ایک دن قبل ہندوستانی شہریت چھوڑنے اور دنیا بھر کے تقریباً 135 ممالک کی شہریت اختیار کرنے والے ہندوستانیوں کی تعداد پر مبنی سالانہ ڈاٹا مرکزی وزیر خارجہ ایس جئے شنکر نے جاری کیا۔ کریسٹو نے سوال کیا ہے کہ اگر ہندوستان میں واقعی سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے تو لوگ اپنی ہندوستانی شہریت کیوں چھوڑ رہے ہیں۔دراصل راجیہ سبھا میں ایک سوال کے جواب میں جئے شنکر نے ہمیشہ کے لیے ملک چھوڑ کر جانے والے ہندوستانیوں کی تعداد کا سال در سال کا ڈاٹا پیش کیا۔ وزیر نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ 2011 کے بعد سے 16 لاکھ سے زیادہ ہندوستانیوں نے اپنی ہندوستانی شہریت چھوڑ دی ہے، جس میں تنہا 2022 میں 2 لاکھ 25 ہزار 620 افراد نے ہندوستانی شہریت چھوڑی۔ یعنی اوسطاً روزانہ تقریباً 618 ہندوستانیوں نے ایسا کیا۔ ایسے لوگوں نے البانیہ، امریکہ، برطانیہ، ویٹکن اور زمبابوے سمیت 135 ممالک میں سے کسی ایک کی شہریت حاصل کی۔جئے شنکر نے 2014 سے پہلے اور 2014 کے بعد یعنی مرکز میں بی جے پی حکومت کے اقتدار میں آنے سے پہلے اور بعد کے اعداد و شمار بھی پیش کیے۔ این سی پی لیڈر نے اس ڈاٹا کے پیش نظر کہا کہ جئے شنکر یہ بتانے کی کوشش کر رہے تھے کہ سالوں سے شہریت چھوڑنے والوں کی تعداد ایک جیسی ہے۔ کریسٹو نے آفیشیل ڈاٹا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ 2021 میں سب سے زیادہ ہندوستانیوں نے شہریت چھوڑی ہے جو گزشتہ ایک دہائی میں سب سے زیادہ ہے۔بی جے پی کو گھیرنے کی کوشش کرتے ہوئے کریسٹو نے کہا کہ اب حکومت کو 2014 سے پہلے اور بعد کے خام تیل کی قیمتوں کے مقابلے میں بے روزگاری، مہنگائی، جی ڈی پی اور ایندھن کی قیمت کا ڈاٹا بھی سامنے لانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ بی جے پی کی قیادت والی مرکزی حکومت لگاتار یہ کہہ رہی ہے کہ 2014 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے ہی ہمارا ملک آگے بڑھا اور خوشحال ہوا۔