دنیا پر منڈرایا ماربرگ وائرس کا خطرہ، جسم سے پسینے کی طرح نکلنے لگتا ہے خون،ڈبلیو ایچ او

سلائیڈر نیشنل نیوز
جنیوا:۔دنیا ابھی کورونا وائرس وبا کی تباہی سے نکل بھی نہیں پائی تھی کہ ایک اور خطرناک وائرس ماربرگ نے تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔ اس ماربرگ وائرس کی وجہ سے افریقی ملک استوائی گنی میں اب تک کم از کم 9 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایبولا کی طرح اس انتہائی مہلک وائرس کی کوئی ویکسین دستیاب نہیں ہے۔ ایسے میں اسے روکنے کے لیے متاثرہ علاقوں میں لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا ہے۔اس نئے وائرس نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی تشویش میں بھی اضافہ کردیا ہے اور اس نے اس حوالے سے ہنگامی میٹنگ بلائی ہے۔ اقوام متحدہ کی صحت کی ایجنسی نے ایک بیان میں کہا، "عالمی ادارہ صحت استوائی گنی میں نئے ماربرگ وائرس کے پھیلنے پر بات کرنے کیلئےماربرگ وائرس ویکسین کنسورشیم (MARVAC) کا ایک ہنگامی اجلاس بلائیگا ۔دراصل ڈبلیو ایچ او کے مطابق ماربرگ ایک بہت ہی جان لیوا وائرس ہے، جو چمگادڑوں سے لوگوں تک پہنچتا ہے اور پھر ایک سے دوسرے میں پھیلتا ہے۔ اس کی وجہ سے متاثر شخص کو ہیمریجک فیور (Haemorrhagic Fever) ہو جاتا ہے اور آہستہ آہستہ اس کی حالت سنگین ہو جاتی ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے بتایا کہ اب تک پائے جانے والے 88 فیصد مریضوں کی موت ہو چکی ہے۔ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے افریقہ یونٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ماتشیڈیسو موئتی نے کہا، ‘ماربرگ وائرس بہت خطرناک ہے، جس کا تعلق ایبولا وائرس کے خاندان سے ہے۔ یہ وائرس چمگادڑوں سے انسانوں تک پہنچا ہے اور اس سے متاثرہ افراد کی اموات کی شرح 88 فیصد ہے۔ اس وائرس سے متاثر ہونے کے بعد علامات اچانک ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ ایجنسی نے یہ بھی کہا کہ استوائی گنی میں بخار، تھکاوٹ اور خونی قے اور دست جیسی علامات کے ساتھ 16 مشتبہ کیسز بھی رپورٹ ہوئے ہیں اور اس کے بارے میں بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔یو ایس سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن (سی ڈی سی) نے اطلاع دی ہے کہ ماربرگ وائرس کی علامات اچانک 2 سے 21 دن کے درمیان شروع ہوجاتی ہیں۔ اس کی اہم علامات بخار، سردی لگنا، سر درد ہیں۔ ان علامات کے چند دنوں کے بعد سینے، کمر اور پیٹ پر دانے نکل آتے ہیں۔ اس کے علاوہ قے، سینے میں درد، گلے کی خراش، پیٹ میں درد اور دست اس وائرس کی علامات ہوسکتی ہیں۔