شیموگہ :۔سٹی میونسپل کارپوریشن کی بات آتی ہے تو سب سے پہلےبنیادی سہولیات کو ترجیح دی جانی چاہئے بعدازاں ضرورت کے موافق آنے والے کاموں کو مکمل کیا جانا چاہئے۔ لیکن شیموگہ سٹی کو اسمارٹ سٹی کی فہرست میں شامل کیا گیا تو اس اسمارٹ سٹی پروجیکٹ کے تحت سڑکیں ،نالوں ،یوجی ڈی ، زیرزمین کیبل ، بس اسٹاپ وغیرہ کام شروع کیے گئے ہیں لیکن حکام اور عوامی نمائندوں نےاب تک بنیادی سہولیات کی فراہمی کرنااولین ترجیحی کبھی نہیں رہی ہے!ہم بات کریں پبلک ٹوائلیٹ کی یہ ہمارے لئے مثال ہے کہ یہاں صفائی کا فقدان ہمیشہ سے ہوتا ہے۔پانچ لاکھ سے زیادہ آبادی والے ضلع شیموگہ میں جہاںلوگ مختلف ضلعوں سے شیموگہ ڈسٹرکٹ میں کاموں کے سلسلے میں آتے ہیں اور اتنے بڑے شہر میں پبلک ٹوائلیٹ کی کمی ہونا بدترین وجہ سمجھتی جاتی ہے۔ خاص طور پر خواتین کیلئے یہ بات کافی تکلیف دہ ہے۔جب کہ شہر میں مٹھی بھر پبلک ٹوائلیٹ موجود ہیں اوریہ مٹھی بھر بیت الخلاء بھی صاف صفائی کے فقدان کا شکار ہیں،ان میںکچھ بیت الخلاء کی حالت ٹوٹی پھوٹی اورکچھ تو دیکھ بھال کے فقدان کا شکار ہیں ، ان میں سے کچھ مستقل طور پر لاک رہتے ہیں۔ مردحضرات اپنی حاجت کو پورا کرنے کیلئے عارضی طور پر میونسپل کارپوریشن کی جانب سے تعمیر کئے گئے کنسروینسی کومرکز بنالیتے ہیں ، لیکن خواتین کا کیا ہوگا۔ یوں تو شہر بھر میںکئی عالی شان شاپنگ کامپلکس موجود ہیں لیکن ان میں دکانوں کے علاوہ بیت الخلاءکا انتظام نہیں رہتاہے۔ بلدیہ کو اس جانب بھی فکر کرنے کی ضرورت ہے۔سالوں سال چلنے والے اسمارٹ سٹی کے متعدد کاموں کیلئے بنیادی سہولیات ہی رکاوٹ کا باعث بنتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس پرپبلک ٹوائلیٹ کی قلت عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کررہا ہے۔ اب تو شیموگہ بلدیاتی انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ عوام کے بنیادی مسائل کو سجھیں ، اسکا احساس کریں اور عوامی نمائندوں اور افسران کو اس جانب ترجیح دیتے ہوئے شیموگہ شہر کوحقیقت میں اسمارٹ سٹی بنانے کیلئے کام کرنا چاہئے۔
