ہبلی:۔’’38سال تعلیمی ادارہ سے منسلک رہنا اور اپنی تعلیمی خدمات بدرجہ اتم انجام دیتے رہنا بذاتِ خود ایک بڑی بات ہے۔تیرہ سال درس و تدریس اور قریباََ پچیس سال بحیثیت پرنسپال کے خدمات انجام دیتے رہنانیز ادارہ کے پلیٹ فارم سے سماجی تقاضوں کو پورا کرتے رہنااور مستقل طلباء کی ذہن سازی اور انکی ہمہ جہتی نشونما کے لئے مختلف پروگرام منعقد کرتے رہنااور اساتذہ کے لئے روڈ ماڈل بنے رہنا اور ادارہ ٹیپو شہید پالی ٹیکنک کو ریاست بھر میں منفرد مقام دلانے میں جو کلیدی رول اداکیا ہے اسکی نظیر مشکل سے ملتی ہے اور انکی تعلیمی خدمات نا قابلِ فراموش ہیں۔‘‘ان خیالات کا اظہار شری وینکپا کامل ؔ کلادگی ریٹائرڈ فیزیکل ایجوکیشن ڈائرکٹر، کرناٹک کالج دھارواڑ نے یہاں ادارہ ٹیپو شہید انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (پالی ٹیکنک) ہبلی میں منعقدہ سالانہ جلسہ میں اساتذہ و طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔مزید کہا کہ یہ میرے لئے بڑی خوشی کی بات ہے کہ پرنسپال یم ایس ملا ہائی اسکول کے زمانہ میں میرے شاگرد رہے ہیں ، جب بھی اخبارات میں کالج کی پروگرام کی رپورٹ پڑھتا ہوںنیز آپ کے لکھے ہوئے مضامین اردو و انگریزی اخبارات کے ایڈیٹوریل صفحات پہ شائع ہوتے ہیں تو کافی فخر محسوس کرتا ہوں۔میں سمجھتا ہوں کہ پرنسپال یم ایس ملا نے اپنے تمام اساتذہ کو ایک طرح سے تعظیم و عزت بخشی ۔ جو کچھ انہوںنے اپنے پرائمری، ہائی اسکول اور کالج کے اساتذہ سے جو پایا اسے سے کہیں زیادہ اپنے طلباء اور سماج کو واپس لوٹایا ۔ میں ذاتی طورپر پرنسپال یم ایس ملا کو جانتا ہوں ان کے اندر کام کرنے کا ایک جنون سا ہے، چالنج کو قبول کرتے رہنا اور ہدف کو حاصل کرنے میں اپنے آپ کو جھونک دینا ان کی خوبی رہی ہے۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ تکنیکی میدان سے تعلق رکھنے کے باوجود بھی پرنسپال یم ایس ملا نے اپنی زندگی کا دائرہ اتنا بلند کرلیا جس کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔آخر میں طلباء کو نصیحتاََ کہا کہ محنت کو اپنا شغف بنائے رکھیں اس لئے کہ محنت کا کوئی نعمل البدل نہیں ہے۔ترقی کا راز محنت اور لگن سے ہے۔اس موقع پر پرنسپال یم ایس ملا کو منتظمین ادارہ ، طلباء اور اسٹاف کی جانب سے ان کی بہترین کارکردگی بحیثیتِ پرنسپال پچیس سالہ خدمات کو سراہتے ہوئے تہنیت پیش کی گئی جو اس ماہ کے آخر میں وظیفہ یاب ہونے والے ہیں۔اس موقع پر رویندر سنگھ عطار ہیڈ آف سول انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ ہم سب کو اس بات کا فخر حاصل ہے کہ پرنسپال یم ایس ملا نے کالج کی ترقی میں نمایاں رول اداکیا اور اس بات کا ہم سب اعتراف کرتے ہیں۔کالج کی ترقی اور وسعت کا جو خاکہ منتظمین ِ ادارہ نے بنایا تھا اس کو پرنسپال یم ایس ملا نے قدو خال ، بال و پر دیئے اور بڑے ہی اچھے انداز میں اس خاکہ کو عملی شکل میں رول ماڈل کی طرح کھڑا کیا۔مزید کہا کہ ادارہ کو گرانٹ ان ایڈمیں شامل ہوئے آج 23سال مکمل ہوچکے ہیں اور ابتدائی دور میں کئی ایک نشیب و فراز آئے لیکن انہوں نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے ادارہ کی ترقی کا سفر جاری رکھا۔آخر میں رویندر سنگھ عطار نے کہا کہ مجھے اس بات کا فخر حاصل ہے کہ میں پرنسپال یم ایس ملا سر کا شاگرد رہا ہوں۔ آج سے32 سال پہلے انہوں نے جو مجھے پڑھایا، ان کا طلباء سے لگاؤ اور محبت ڈسپلن کی تئیں سختی آج بھی وہ تمام باتیں میرے ذہن میں تازہ ہیں۔اپنے صدارتی خطاب میں پرنسپال یم ایس ملا نے کہا کہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے شکرگزار ہیں کہ جس نے ٹیپو شہید پالی ٹیکنک جیسے مثالی ادارہ کی سربراہی کا موقع دیا۔ انہوںنے بانیانِ ادارہ ٹیپو شہید پالی ٹیکنک ہبلی، شیخ محمد اکبر اور نظام الدین واچ میکرکا شکریہ ادا کیاکہ انہوںنے ان پر اعتماد کیا اور ادارہ کی باگ ڈور ان کے ہاتھ دی۔ اس دورانیہ میں کئی ایک نشیب و فراز آئے لیکن بانیانِ ٹیپو شہید پالی ٹیکنک ہبلی نے قدم قدم پر تعاون اور ساتھ دیا اور رہنمائی بھی کرتے رہے جسے بھلایا نہیں جاسکتا۔اس موقع پر حالیہ امتحان میں نمایاں مارکس حاصل کرنے والے ان تمام طلباء کو انعامات و ٹرافی سے نوازا گیا۔ پروگرام کا آغاز سراج احمد ہاویری کی تلاوتِ قرآن پاک مع کنڑا ترجمہ سے کیا گیا۔نظامت کرن کمار منٹور نے کی۔ شکریہ بالیش ہیگنور نے ادا کیا۔ اس موقع پر تمام شعبہ جات کے صدور یم ایس سومنکٹی، مسعود احمد جنیدی، یم ایچ دھارواڑ، رویندر سنگھ عطار ، طلباء و اساتذہ شریک رہے۔
