بنگلورو:۔وزیر اعلیٰ کاانتخاب کرنےا ور وزیر اعلیٰ کو عہدے سے بے دخل کرنا مجھے اچھی طرح معلوم ہے ،میں کسی کے سامنے بھیک مانگنے کیلئے تیارنہیں ہوں،یہ بات کھلے طورپر سمجھ لیاجائے۔ سدرامیاکو وزیر اعلیٰ بنانے میں میرااہم کردارہے،ایسے میں سدرامیانے مجھے کیادیایہ اہم بات ہے۔یہ پیغام کانگریس کے ایم ایل سی بی کے ہری پرسادنے جاری کیاہے۔ایڈیگا،بلوا سماج کی طرف سے منعقدہ ایک تقریب میں شرکت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ میرا وزیرہونا نہ ہونا الگ بات ہے ،لیکن سدرامیا کو وزیر اعلیٰ بنانے میں میرا اہم کردارہے،لیکن اس کے بدلے میں مجھے کیاملا یہ وزیر اعلیٰ خود بنائیں۔ریاست میں سیاسی طورپر ایڈیگابلوااور دیورا سماج کے لوگ آگے نہیں آرہے ہیں،اس کے پیچھے گہری سازش ہے،سدرامیا پسماندہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں،وہ ان طبقات کو آگے لائیں،اسی وجہ سے سال2013 میں میں نے ان کا بھرپور ساتھ دیاتھا۔ریاست کے گیار ہ اسمبلی حلقوں میں ایڈیگا،بلوااور دیورا سماج کے ووٹران اہم ہیں،لیکن ان گیارہ حلقوں میں سے چارحلقوں میں ہی اسمبلی کی ٹکٹ ان ذاتوں کے امیدواروں کو دی گئی ہے۔منگلورو سائوتھ اور نارتھ میں مسلمانوں کو ٹکٹ دی گئی تھی،ہم اقلیتوں کے مخالف نہیں ہیں،لیکن ہمیں یہ تاکید کی جاتی ہے کہ ہم اقلیتوں کے خلاف کچھ نہ کہیں۔اقلیتوں کو سامنے رکھ کر ہماری ذاتوں کو ٹکٹ سے محروم کیاجارہاہے۔لنگایت،وکلیگا،برہم ،کُربا سماج کے لوگ وزیر اعلیٰ کی دوڑمیں آگے ہیں،جہاں پر ایڈیگا اور بللواسماج کے لوگ زیادہ ہیں،وہاں پر ان طبقات کو ٹکٹ دیاجائے۔بی کے ہری پرسادکے بیان سے اس بات کااشارہ ہورہاہے کہ وہ وزیر اعلیٰ سدرامیا کے حریف بنتے جارہے ہیں اور ان کی مخالفت میں کھڑے ہونے کی تیاری کررہے ہیں۔واضح ہوکہ بی کے ہری پرسادکو وزارت سے محروم کیاگیا،اس کے بعد سے وہ سدرامیاحکومت سے دوری اختیارکئے ہوئے ہیں ۔ واضح ہوکہ ہری پرساد کا تعلق بااثر ایڈیگا کمیونٹی سے ہے اور وہ فی الحال قانون ساز کونسل میں قائد حزب اختلاف کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ہری پرساد جو آر ایس ایس اور ہندوتوا کے خلاف اپنی شعلہ بیان تقریروں کے لیے جانے جاتے ہیں۔
