ڈاکٹروں پرہورہے حملوں کے خلاف حکومت سخت قانون بنائے:آئی ایم اے

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
ساگر:فرائض انجام دے رہےڈاکٹروں پر حملے ہونا ایک غیر انسانی عمل ہے۔حکومت کوڈاکٹروں کے تحفظ کیلئےمزید سخت قوانین بنانے کی ضرورت ہے۔ اس بات کا مطالبہ انڈین میڈیکل اسوسیشن کی ضلعی شاخ کے صدر ڈاکٹرپرمیشورا نے کیا ہے۔ انہوں نےضلع کے آئی ایم اے کے احاطے میں منعقدہ احتجاجی جلسے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں ڈاکٹر وں کیلئےبے خوف ہوکر اپنے فرائض انجام دینا ممکن نہیںہورہا ہے۔اسکی اہم وجہ حکومتوں کی جانب سے ڈاکٹروں کی حفاظت کے تیئں نظرانداز کرنے کا نتیجہ ہے۔ڈاکٹروں پر حملے کے فوراً بعد ہی مناسب کارروائی کرنے کا حکومت اور پولیس بھروسہ توضرور دیتی ہےلیکن بہت سے معاملات میں قصوروارکے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی، اس ضمن میں قانون کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ کورونا بیماری کے بعد بہت سارے سینئرڈاکٹروں پر حملے ہوئے ہیں۔انہوں نے غم وغصے کا اظہار کرتےہوئے کہا کہ ہم ڈاکٹرس اپنی پوری طاقت لگا کر بیماروں کی خدمت اورانکی زندگیوں کو بچانے کی کوشش کر تےہیںلیکن پھر بھی معاشرہ اور حکومت میں ہمارے لئے کوئی احترام نہیں رکھا جاتا۔ اس پس منظر میں ڈاکٹروں نے ملک بھر میں اپنے حقوق کی تکمیل کا مطالبہ کرتے ہوئےسیاہ پٹی پہن کر احتجاج کر نے کا فیصلہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا اسوسیشن کی جانب سے ای میل کے ذریعے وزیر اعظم سےمطالبہ کرنے کی بھی اطلاع دی ۔اس موقع پر اسوسیشن کےممبر ڈاکٹر شمبھولنگانےبات کرتے ہوئے کہا کہ کوروناکی آمد کے بعد ملک میں 1400 سے زیادہ ڈاکٹروں کی اموات ہوچکی ہے۔بہت سے خاندانوں کو اب تک معاوضہ نہیں ملا ہے۔ان ڈاکٹروں کے لواحقین بہت ساری مشکلات کا سامنا کررہے ہیں انہیں فوراً معاوضہ کرنے کا دبائو ڈالاگیا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹروں کی حفاظت کیلئے قانون کو مزید سخت بنانے کیلئے مرکزی حکومت کو فوری اقدامات اٹھانے چاہئے۔دن رات مریضوں کا خیال اورانکی خدمت کرنے والے ڈاکٹر وںکی حفاظت کیلئے حکومت کو ضروری اقدامات اٹھانےاور اسوسیشن کے متعد د مطالبوں کو پورا کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر شیکھر، ڈاکٹر راہل، نوین سمیت کئی ڈاکٹروں نے حصہ لیا۔