آرایم ایل نگر کی سڑکیں بدحال،محلے کی ترقی کیلئے کارپوریٹرکو نہیں ہے کوئی خیال

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔شہرکے مسلم اکثریتی علاقے والے آرایم ایل نگر کی سڑکیں بدحالی کا جیتا جاگتا ثبوت ہیں۔گذشتہ پانچ سالوں میں اس علاقے میں نہ ایک راستہ بنایا گیا ہے ،نہ ہی راستوں کی مرمت ہوئی ہے ۔ حالات اس قدر بدترہیں کہ سڑکوں پر سے سواریوں کا گذرنا مشکل ہوچکاہے۔آج صبح ملن شادی محل کے بالمقابل ایک کارسڑک اور نالے کے درمیان پھنس گئی،جس سےکار کو نقصان پہنچاہے۔کہنے کو تو آر ایم ایل نگرکی ہر گلی میں ایک لیڈر اور ہر تین گلیوں سے آنےوالے کارپوریشن انتخابات کا امیدوار موجودہے،مگر یہاں کے ترقیاتی کاموں کی طرف توجہ دلانے کیلئے مستقل طورپر کوئی آواز نہیں اٹھارہاہے۔کچھ ماہ پہلے ضلع نگران وزیر مدھو بنگارپاکوبلاکر اس علاقے کے حالات کا معائنہ کروایاگیاتھا،اس کے علاوہ ڈپٹی کمشنر،کارپوریشن کمشنرسمیت مختلف انجینئرس کو بھی علاقے کی بدحالی کے تعلق سے واقف کروایاگیاتھا،مگر اب تک اس تعلق سے ایک بھی ترقیاتی کام ممکن نہیں ہوسکے۔موجودہ کارپوریٹر راجوکہاں ہیں،کس حال میں ہیں اور وہ دکھتے کیسے ہیں یہ کوئی نہیں جانتا۔البتہ آنےوالے کارپوریشن انتخابات کیلئے تیاری کررہے عام آدمی پارٹی کے نذیراحمد اور کانگریس کے سیدنوراُللہ دونوں وقتاً فوقتاً مقامی مسائل کو حل کرنے کیلئے اِدھر اُدھر بھٹکتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں،لیکن ان کی جدوجہد اور دوڑ دھوپ کا پھل پوری طرح سے نہیں مل رہاہے۔مقامی سماجی کارکن عادل پاشاہ کاکہناہے کہ سڑکوں پر جو کھڈے ہیں اس کی وجہ سے سواریاں کا چلنا پھرنا مشکل ہواہے،یونیٹی ہال سے قدوائی اسکول تک کی سڑک پوری طرح سے تباہ ہوچکی ہے ،مگر اس کی مرمت کا کام نہیں ہورہاہے۔دیکھنایہ ہے کہ اس وارڈکی قسمت کب اچھی ہوگی اور کب یہاں کے لوگوں کو بنیادی مسائل سے چھٹکاراملےگا۔