شیموگہ:۔وہ تو اچھا ہوا کہ فائنل میں ہندوستان کے بالمقابل پاکستان نہیں ہوا، وگرنہ یقین جانئے ابھی تک ایک آدھ درجن مقامات سے تشدد کی خبریں آچکی ہوتیں۔اول تو اندھ بھکت پاکستان سے شکست برداشت ہی نہیں کرپاتے اور دوسرے یہ کہ اسٹیڈیم میں مودی جی کی موجودگی سے ان کا صدمہ دوگنا ہوجاتا۔ یوں بھی اندھ بھکتوں کی دیش بھکتی مسلم دشمنی کی ہی صورت میں ظاہر ہوتی ہے، جس کے لیے انہیں بس کوئی بہانہ چاہئے ہوتا ہے ۔ایسی صورت میں جب عام انتخابات کا سیمی فائنل جاری ہو، دیشی بھکتی کے مظاہرے کے لیے کوئی پٹاخہ پھوٹ جانا ہی کافی ہوتا۔ لیکن خداکاشکر کہ اس نے پاکستانی ٹیم کو سیمی فائنل سے قبل ہی ٹورنامنٹ سے باہرنکال کر ہندوستانی مسلمانوں کو ایک امتحان سے بچالیا۔فائنل کا سب سے دلچسپ حصہ وزیراعظم نریندرمودی کا احمدآباد کے نریندرمودی اسٹیڈیم میں جاکر میچ کا دیکھنا رہا ۔ وزیراعظم کے ساتھ وزیرداخلہ امیت شاہ بھی موجود تھے، یعنی یک نہ شد دوشد۔ ایک تو وشوگرو صاحب اور دوسرے چانکیہ جی۔ بعید نہیں کہ ان دونوں ’مہامانووں‘کی موجودگی نے انڈین کھلاڑیوں پرکچھ ایسا دباؤ بنادیاہوکہ کے ایل راہل اور وراٹ کوہلی کی نصف سنچری کے باوجود ٹیم انڈیا240تک پہنچتے پہنچتے لڑکھڑاگئی ہو۔لیکن لوگوں کو حیرت تو اس وقت ہوئی جب کھلاڑی میدان میں رونے لگے تھے اور دوسری جانب مودی جی اپنے کیبن سے مسکراتے ہوئے ہاتھ لہرالہراکر کیمرہ پوز دے رہے تھے۔ جبکہ ٹیم انڈیا کے کھلاڑیوں کو روتا دیکھ کر شایدہی کوئی ایسا شخص رہا ہوجس نے اپنی آنکھوں میں نمی محسوس نہ کی ہو، لیکن اس دوران بھی پردھان سیوک صاحب کا ’کیمرہ پریم‘اس جذباتی منظرپر حاوی نظرآیا۔لیکن برا تو اس وقت ہوا جب ٹیم انڈیا کی شکست کے بعد پردھان سیوک صاحب کے خلاف ’ایکس‘ پر ’پنوتی‘ (منحوس) کاہیش ٹیگ ٹرینڈ کرنے لگا۔ اس ہیش ٹیگ کے تحت ٹیم انڈیا کی شکست کا غصہ لوگوں نے جس طرح ظاہر کیا اسے دیکھ کر پردھان سیوک کی میڈیا کے ذریعے بنائی گئی شبیہ اور عوام کے دلوں میں ان کی وقعت کا اندازہ با آسانی لگایا جاسکتا ہے۔آج تک نیوزچینل کی ایک کلپ وائرل ہے جس میں کچھ لوگ کھلاڑیوں کے لباس میں ہیں اور نیوزچینل کا اینکرنریندرمودی اسٹیڈیم میں ہی ان کا انٹرویو کررہا ہے۔ اس میں سے ایک نوجوان کہتا ہے کہ”میں ایم پی میں ووٹ ڈا ل کرآرہا ہوں، مجھے لگا کہ میں پنوتی ہوں لیکن ٹی پر دیکھاکہ مودی جی آئے ہوئے ہیں“۔اسی طرح یوٹیوب کے لوک تنتر ٹی وی نیوز نامی چینل پر ایک بھگواداری نوجوان کی ویڈیو موجود ہے جس میں وہ پردھان سیوک وجے شاہ کے لیے ایسے الفاظ کا استعمال کرتا ہے جو کسی عام شخص کے لیے بھی زیب نہیں دیتے۔وزیراعظم کے خلاف اس ہیش ٹیگ کے استعمال کے دوران بی جے پی کے آئی ٹی سیل امیت مالویہ کا بھی ایک ’ایکس‘ سامنے آیا جس میں انہوں نے بی جے پی کے سنسکار کو پیش کردیا۔امیت مالویہ نے پرینکاگاندھی کی ایک ویڈیو شیئرکرتے ہوئے کہا کہ ’اندراگاندھی کو بھی لوگ اب پنوتی بولیں گے‘۔اس ویڈیو میں پرینکاگاندھی ٹیم کی انڈیا کی جیت کا یقین ظاہرکرتے ہوئے کہتی ہیں کہ ”مجھے یاد ہے جب 1983میں انڈیاجیتا تھا تو اس وقت اندراگاندھی جی تھیں جو اتنی خوش تھیں کہ انہوں نے پوری ٹیم کو اپنے گھربلایا چائے کے لیے۔ آج ان کی یومِ پیدائش ہے، پکا آج ہم پھر سے جیتیں گے“۔اب چونکہ سوشل میڈیا پر پردھان سیوک صاحب کے خلاف ہیش ٹیگ چل رہا تھا جس میں کانگریس کی ایک ترجمان کی بھی پوسٹ شامل تھی، لہذا امیت مالویہ نے ان اندراگاندھی کو پی ایم مودی کے دفاع میں کھینچ لائے جن کے دور میں ٹیم انڈیا فاتح ہوئی تھی۔ یہ کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی نہیں سوچا کہ جب سے پردھان سیوک صاحب برسرِ اقتدارآئے ہیں، ٹیم ایک بھی فائنل نہیں جیت سکی ہے۔میچ ہوتے رہتے ہیں اورمیچوں میں ہارجیت بھی ہوتی رہتی ہے، لیکن اگر کوئی میچوں میں کھیلنے والے کھلاڑیوں کے مذہب کی بنیاد پر میچ کے نتیجے کی توقع کرنے لگے تو اس کا مطلب یہی ہوسکتا ہے کہ وہ میچ کو اپنے اپنے مذہب کی بالادستی کی علامت سمجھتا ہے۔فائنل میچ شروع ہونے سے قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ’بھگوا وستر دھارن‘ کی ہوئی روہت شرماکی تصویر لے کر اعلان کررہی ہیں کہ”یہ ہمارا بھائی ہے، سب سے بڑھ کر یہ کہ یہ ایک سناتنی ہے، یہ میچ جیتے گا اور ہم سب مل کر ہون کریں گے“۔دو منٹ تک وہ سناتن دھرم اور ٹیم انڈیاکا سناتن دھرم سے کچھ ایسا رشتہ ظاہر کرتی ہیں گویا احمدآباد کے نریندرمودی اسٹیڈیم میں کوئی دھرم یودھ ہونے والا ہے۔ ان محترمہ کے ہاتھ میں ایک بال بھی ہوتا ہے جسے وہ اچھال کر روکنے کی کوشش کرتی ہیں جسے وہ روک نہیں پاتیں اور وہ زمین پر گرجاتا ہے۔ اس ویڈیو کو شیئرکرتے ہوئے لوگوں نے ان محترمہ کی خوب جم کر خبرلی انہوں نے بال نہ روک کر اپنے سناتنی بھائیوں کے شاٹس کو آسٹریلیا کو روکنے کا موقع دیدیا۔ٹیم انڈیا کی شکست کا دکھ عام لوگوں سے زیادہ ہمارے قومی میڈیا کے لوگوں کو ہوا ہوگا،جن کی پوری تیار ی پر اوس پڑگئی۔ ہوا یوں کہ میچ سے قبل ہی قومی چینلوں نے کچھ ایسی تیاری کرلی تھی کہ جیسے ہی ٹیم انڈیا جیتے گی، وہ اس کا سارا کریڈیٹ نریندرمودی جی کو دینا شروع کردیں گے۔اس کے لیے تھمبنل، گرافک، بینرس، ہیڈنگ وغیرہ سب کچھ تیاربھی کرلیا تھا۔کچھ بے صبرے قسم کے چینلس نے تو فائنل کے نتیجے کا بھی انتظار کرنا مناسب نہیں سمجھا اور یہ دعویٰ کرنے لگے کہ ”ورلڈ کپ ہمارا ہے“۔ گویا وہ میچ سے قبل ہی میچ کا نتیجہ بیان کرنے لگے تھے۔انہوں نے سوچا تھا کہ ٹیم انڈیا کی جیت پر انہیں یہ ثابت کرنے کا ایک نادر موقع مل جائے گا کہ مودی جی کی وجہ سے ٹیم انڈیا جیتی ہے یا مودی جی اسٹیڈیم میں موجود نہیں ہوتے تو یہ جیت ممکن نہیں تھی وغیرہ وغیرہ۔ لیکن آسٹریلیا کی جیت نے ان کے ارمانوں پر پانی پھیردیا۔ ملک کی پانچ ریاستوں میں عام انتخابات کا سیمی فائنل کھیلاجارہا ہے۔ ان انتخابی میچوں میں فاتح ہونے والی ٹیم کے بارے میں گمان غالب ہے وہ آئندہ سال کے عام انتخابات میں بھی فاتح ہوگی۔ انتخابات کے میچ کو جیتنے کے لیے ضروری تھا کہ ٹیم انڈیا فاتح ہوتی اور کریڈیٹ پردھان سیوک کے سر باندھا جاتا، لیکن یہاں الٹا ہوگیا۔ کچھ لوگ ٹیم انڈیا کی اس شکست کو بی جے پی کے بھکتوں کی صورت حال سے تشبیہ دے رہے ہیں کہ جس طرح مسلسل جیتنے والی ٹیم جب حد سے زیادہ پراعتماد ہوگئی تو شکست اس کا مقدر ہوگئی، بالکل اسی طرح ’مودی نہیں تو کون‘ کا نعرہ لگانے والے بھکتوں کو بھی سمجھ لینا چاہئے کہ ان کی حد سے زیادہ بڑھی ہوئی خوداعتمادی واہنکار خود ان کی شکست کا باعث بن جائے گا اور اس کی شروعات پانچ ریاستوں کے انتخابات کے نتائج سے ہونے والی ہے۔
