کورونا کے نیا ویرینٹ پر انگلینڈ سے خوفناک رپورٹ! ہندوستان سمیت دنیا بھر میں تشویش

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی: کورونا وائرس کے نئی ویرینٹ جے این.1 نے ہندوستان سمیت دنیا بھر کے ممالک میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس قسم کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ہندوستان میں اس قسم کے 26 کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ سے کئی مریض اپنی جان بھی گنوا چکے ہیں۔ہندوستان میں رپورٹ ہونے والے 26 کیسز میں سے 19 گوا میں، 4 راجستھان میں اور کیرالہ، دہلی اور مہاراشٹر میں ایک ایک کیس کی تصدیق ہوئی ہے۔ گوا میں تمام 19 معاملات میں جے این.1 سب ویرینٹ کی تصدیق ہوئی ہے۔ جب مریضوں سے لیے گئے نمونوں کی جینوم سیکوینسنگ کی گئی تو اس ویرینٹ کی تصدیق کی ہے۔ گوا کے وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر پرشانت سوریاونشی نے کہا کہ جے این.1 ویرینٹ والے مریضوں میں ہلکی علامات تھیں اور اب وہ صحت یاب ہو چکے ہیں۔کورونا کا یہ ویرینٹ راجستھان میں بھی دستک دے چکا ہے۔ جیسلمیر میں جے این.1 سب ویرینٹ کے دو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔جے پور میں دو اور کیس رپورٹ ہوئے۔ ملک میں کورونا کے 594 نئے کیسز درج ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ملک میں کورونا کے ایکٹو کیسز بڑھ کر 2669 ہو گئے ہیں۔ کیرالہ میں سب سے زیادہ کیس درج ہوئے ہیں۔بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ میں 24 میں سے ہر ایک شخص کورونا پازیٹیو ہے۔ لندن کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں سے ایک ہے، جہاں جے این.1 ویرینٹ تیزی سے پھیل رہا ہے۔برطانیہ کی ‘ہیلتھ سیکورٹی ایجنسی اور آفس آف نیشنل اسٹیٹسٹکس کی مشترکہ رپورٹ کے مطابق 18 سے 44 سال کی عمر کے افراد کورونا کا سب سے زیادہ شکار ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق کورونا میں اضافے کی وجہ سردیوں کے موسم میں لوگوں کا ملنا جلنا بتایا گیا ہے۔ انگلینڈ اور اسکاٹ لینڈ میں کووڈ کے پھیلاؤ کی شرح 4.2 فیصد ہے، جبکہ لندن میں یہ شرح 6.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹے میں ہندوستان بھر میں کورونا انفیکشن سے 7لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ ان میں تنہا کیرالہ سے ہی 3 اموات کے معاملے سامنے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ کرناٹک میں 3اور پنجاب میں 1 کورونا مریض کی موت کا معاملہ منظر عام پر آیا ہے۔ گزشتہ دو ہفتوں کی بات کریں تو کورونا سے اموات کی تعداد23 پہنچ گئی ہے۔ یعنی ایک بار پھر کورونا ’قاتل‘ بن گیا ہے۔کورونا کے بڑھتے معاملوں کو دیکھتے ہوئے مرکزی اور ریاستی حکومتیں سرگرم ہو گئی ہیں۔ کورونا کے نئے ویریئنٹ جے این 1 کی ٹریکنگ بھی تیز کی جا رہی ہے۔ فی الحال کورونا کے لیے سب سے خطرناک زون کیرالہ ہے۔