ایم پیNo،ایم ایل اےNoیم ایل سیNo،سوڈاNo،گیارنٹی کمیٹی چیرمین No

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔الیکشن کے موقع پرجب مسلمان کانگریس پارٹی میںایم پی ٹکٹ،ایم ایل اے ٹکٹ کا مطالبہ کرتے ہیں تومسلمانوں کو یہ کہہ کر خاموش کردیا جاتا ہے کہ اقتدارمیں آنے کے بعد انہیں ایم ایل سی،بورڈیا کارپوریشن کا چیرمین کا عہدہ د یا جا ئیگا ، مسلمان الیکشن کی ٹکٹ کا مطالبہ نہ کریں۔پارٹی لیڈروں کی بات کو مان کر مسلم لیڈران پوری ایمانداری اور وفاداری کے ساتھ کانگریس پارٹی کوووٹ دلوانے کیلئے کام کرتے ہیں،یہ مسلمانوں کی روایت رہی ہے۔لیکن جب کانگریس پارٹی اقتدار میں آتی ہے تومسلم کانگریسیوں سے کئے گئے وعدوں سے منہ پھیرلیتی ہے۔ریاست میں جہاں بورڈ و کارپوریشن کے صدورکی تقررات میں مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے،وہیں اب نئے سرے سے ریاست میں گیارنٹی کمیٹیوں کی صدارت کے تعلق سےبھی مسلمانوں کو محروم رکھا جارہا ہے ۔ گذشتہ دنوں کرناٹک حکومت نے اس بات کا اعلان کیاتھاکہ ریاستی حکومت کے گیارنٹیوں کی نگرانی کرنے کیلئے تعلقہ،ضلعی اور ریاستی سطح کی کمیٹیوں کو بنایا جائیگا اوران کمیٹیوں کو باقاعدہ طورپر اختیارات دئیے جائینگے۔ہر گیارنٹی کمیٹی کے ماتحت کے ایس آرٹی سی، اومنس اینڈ چائلڈ ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ ، اسپورٹس اینڈ یوتھ ویلفیر ڈیپارٹمنٹ اور میسکام کا محکمہ کام کریگا ۔یہ عہدہ سبوڈا ، وقف بورڈ یا پھر دوسرے بورڈ و کارپوریشنوں سے زیادہ طاقتور عہدہ ہے،لیکن اس عہدے کے تعلق سے جہاں مسلم کانگریسیوں کو کوئی علم نہیں ہے،وہیں کانگریس پارٹی خود مسلمانوں کویہ عہدے دینے سے گریز کررہی ہے۔گیارنٹی کمیٹی جملہ 16 افراد پر مشتمل ہوتی ہے،جس میں ایک چیرمین،ایک وائس چیرمین اور14 اراکین ہوتے ہیں۔عوام کے درمیان خدمات انجام دینے کیلئے یہ بہترین عہدہ ہے،لیکن اس عہدے کو کانگریس حکومت مخصوص افرادکوہی فراہم کررہی ہے ۔ شیموگہ ضلع میں8 چیرمین کیلئے سفارش ،ایک بھی مسلمان نہیں ، ایک ہے ، لیکن اہمیت نہیں : ۔ شیموگہ ضلع کے7 اسمبلی حلقوں اور ایک شیموگہ سٹی کیلئے کمیٹیوں کی سفارش کی گئی ہے،ضلع کانگریس صدرکی نگرانی میں اس کمیٹی کی سفارش ہوئی ہے،لیکن کسی بھی کمیٹی کیلئے ایک بھی مسلمان کو چیرمین یا وائس چیرمین کیلئے سفارش نہیں کی گئی ہے،البتہ شیموگہ تعلقہ سے کانگریس کے نوجوان لیڈرمحمدنومان توصیف نے عرضی دی تھی،لیکن اس عرضی کو سرے سے خارج کئے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔گیارنٹی کمیٹی ایک اہم کمیٹی ہے،ا س سے عوام اور حکومت کے درمیان کام کرنے کا موقع ملتاہے او رایسے عہدوں سے ہی عوام کو فائدہ پہنچایاجاسکتاہے،جبکہ سبوڈاکا صدربنایا جاتا ہے تو یہ عہدہ رئیل ایسٹیٹ والوں کیلئے مفید ہے،اس سے عام لوگوں کو فائدہ بہت کم ملتا ہے ، خصوصاً غریبوں کو ا س سے کوئی فائدہ نہیں ہے۔کیا مسلمان صرف جئے جئے اور زندہ بادکیلئے ہیں ؟ کانگریس پارٹی مسلمانوں کو نہ تو ایم ایل اے کی ٹکٹ دینے کو ترجیح دیتی ہے،نہ ہی ایم پی کا ٹکٹ دیکر کامیاب کروانے کیلئے کوئی پیش رفت کرتی ہے ۔ ایسے میں مختلف بورڈو کارپوریشنوں میں بھی مسلمانوں کو اہمیت نہیں دیتی ہے تو کس بنیادپر سماجی تحفظ کا دعویٰ کرتی ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم کانگریسی اس سلسلے میں کانگریس پارٹی پر دبائو ڈالیں کہ گیارنٹی کمیٹیوں میں بھی مسلمانوں کو صدرکا عہدہ دے،سبوڈا کے صدر سے تو عوامی سطح پر خدمت ممکن نہیں ہےاوروقف بورڈ تو مسلمانوں کے سوائے کسی اور مذہب والوں کو ملنے والانہیں ہے۔