بنگلورو:۔بزمِ امیدِ فردا کے زیرِ اہتمام آن لائن ’’ایک ملاقات احمد علوی کے ساتھ‘‘پروگرام منعقدکیاگیاتھا ۔نشست کا آغاز سید عرفان اللہ کی تلاوتِ آیاتِ ربانی سے ہوئی اور مہمانِ خصوصی احمد علوی نے نعتِ پاک پڑھ کر تمام کو محظوظ کیا۔ احمد علوی سے جب ان کے مختصر تعارف پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’’کسی بھی فنکار کا تعارف اس کا کلام ہوتا ہے۔ آپ کسی کو کتنا ہی بڑا کیوں نہ بنا دیں یا کسی کو کتنا چھوٹا ہی کیوں نہ کر دیں لیکن اس کلام اصل میں اس کو ایک مقام پر پہنچا دیتا ہے اور یہی اس کی پہچان بن جاتی ہے۔‘‘ اپنے ابتدائی دور کو یاد کرتے ہوئے احمد علوی نے کہا کہ ’’جب بشیر بدر علی گڑھ یونیورسٹی آئے تھے تب ہم نے ان کے اعزاز میں ایک خصوصی نشست کی تھی اور اس نشست میں پہلی بار میں نے شعر سنائے تھے۔ اور پھر بشیر بدر سے بہت محبتیں بڑھ گئیں تھیں اسی کا نتیجہ ہے کہ ہم ادبی دنیا میں کئی اڑانے اڑتے چلے گئے۔ ‘‘جنوب اور شمال کے تعلق سے ایک سوال پر آپ نے کہا کہ ’’ہمارے یہاں کے مقابل جنوب میں مشاعروں کے معیاربہت بلند ہے اور جنوب میں مشاعرے سننے والے بہت اچھے اور ادبی شوق کے مالک ہوتے ہیں۔‘‘اردو زبان کے تعلق سے فرمایا ’’ہم اردو والے اردو زبان و ادب سے دور ہو رہے ہیں لیکن اردو دوسرے لوگوں میں پھیل رہی ہے۔ غیر مسلم اردو سے محبت کر رہے ہیں ، اردو کو جاننا اور پڑھنا چاہ رہے ہیں۔ دہلی یونیورسٹی میں اردو پڑھنے والوں میں غیر مسلم طلبہ کی تعداد مسلم طلبہ کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔اردو کوئی ماں کے پیٹ سے سیکھ کر آنے والی شے نہیں ہے بلکہ آپ کو اردو زبان پڑھنا، لکھنا اور سیکھنا پڑے گایہ اس لئے کہ اردو مسلمانوں کی زبان نہیں ہے بلکہ اردو ہندوستان کی زبان ہے ۔ جنہوں نے بھی اردو کو مسلمانوں کی زبان کہا انہوں نے اردو زبان کو بس نقصان ہی پہنچایا ۔ آج بھی اردو کے کئی بڑے شاعر و ادیب میں غیر مسلمانوں کی بڑی تعداد موجود ہے اس لئے یہ کہنا کہ اردو صرف مسلمانوں کی زبان ہے یہ اردو کے ساتھ بہت بڑی ناانصافی ہے۔ ‘‘ نئے لکھنے والوں کو پیغام دیا کہ بنا مطالعہ کے کوئی بھی تخلیق ہو ہی نہیں سکتی۔ خداداد صلاحیات کو بھی صرف نقارہ جا سکتا ہے۔ جیسے ہیرے کو تراش کر دنیا سے متعارف کروایا جا سکتا ہے لیکن ہیرے قدرتی طور پر ہیرہ ہوتا ہے۔ مجسمہ ساز جیسے پتھر کو تراش کر ایک نیا روپ دیتا ہے یہ دونوں الگ باتیں ہیں اسی طرح خداداد صلاحیات جن میں ہوتی ہیں ان کو صرف رخ دیکھایا جا سکتا ہے ان میں شاعری کے جراشم داخل نہیں کئے جا سکتے۔ ہمیں چائیے کہ دیگر مطالع کے علاوہ استاد شعراء کے کلام کو بار بار پڑھا جائے اور صبر و تحمل سے کام لیا جائے تو کامیابی یقینا آپ کے قدم چومے گی‘‘۔ نشست کے اختتام کے دوران آپ نے بزمِ امیدِ فردا کی اس کاوش کی بھرپور ستائس کی اور کہا کہ ’’اس پرآشوب دور میں جہاں ایک دوسرے سے بات کرنے کی بھی کسی کو ضرورت محسوس نہیں وہاں بزمِ امیدِ فردا گھر بیٹھے ہم جیسے ادباء و شعراء کو آن لائن ہی صحیح ہمارے ناظرین سے ملاقات کرواتے ہیں یہ بہت ہی ہمت و جرت کا کام ہے اس کیلئے میں مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ ‘‘ سید عرفان اللہ، سرپرست و بانی، بزمِ امیدِ فردا نے تمام آن لائن ناظرین و مہمانِ خاص کا شکریہ ادا کیا اور ساتھ ساتھ تمام اخبارات و رسائل کا بھی شکریہ ادا کیا جن میں بزمِ امیدِ فردا کے اعلانات و روداد برابر شائع ہو رہے ہیں۔ اور اسکی کے ساتھ ملاقاتی نشست کے اختتام کا اعلان کیا۔
