سب رجسٹراردفتروں میں رجسٹرر میرج کیلئے عرضیاں ہورہی ہیں دائر،مسلمان چاہ کربھی بے بس!
شیموگہ:۔ایک طرف سنگھ پریوارمسلم نوجوانوں کے ساتھ ہندو لڑکیوں کی شادی کو لیکر واویلا مچارہی ہے اورمسلم لڑکوں کو ان حرکتوں پرزدوکوب کیا جارہاہے،ان معاملات کو لیکرکئی مسلم نوجوانوں کو قتل بھی کیاجاچکاہے،وہیں دوسری جانب بھگوالئو ٹراپ کے ذریعے سے مسلم لڑکیوں اورشادی شدہ عورتوں کو دوسری قوم کے لڑکے اپنی ہوس کا شکاربنارہے ہیں اور اسے محبت کی شادی کانام دے رہے ہیں۔جب کوئی ہندو لڑکا یا مردمنظم سازش کے تحت مسلم لڑکیوں یا شادی شدہ عورتوں کومحبت کے بہانے پھنساکراُنہیں بھگالے جاتا ہے یاپھر اُن سےشادی کرلیتاہے تو اس نظام کو سماج میں بھگوالئوٹراپ یعنی پھنسنا کہاجاتا ہے ۔ ایسےواقعات اب تک شمالی ہند میں کثرت سے دیکھے جارہے تھے،گذشتہ کچھ مہینوں سے یہ حالات ریاست کرناٹک میں بھی رونماہورہے ہیں،ہر ہفتے درجنوں مسلم لڑکیاں مختلف علاقوں میں غیر مسلم نوجوانوں کے ساتھ فرارہورہی ہیں یا پھر باضابطہ طورپرسب رجسٹرار آفیس میں اسپیشل میرج ایکٹ کے مطابق شادیاں رچارہے ہیں اور قانونی آزادی کااستعمال کرتے ہوئے مرتددہورہی ہیں۔ان حالات میں مسلمان چاہ کر بھی مسلم لڑکیوں کو مرتددہونے سے روک نہیں پارہے ہیں۔ بنگلو رو ، شیموگہ ،داونگیرے، ہبلی، میسوروجیسے علاقوں میں ایسی وارداتیں زیادہ ہونے لگی ہیں۔حالانکہ بھگوالئو ٹراپ کا شکارہونےوالی مسلم لڑکیاں اپنی زندگیاں کامیابی کے ساتھ گذارنہیں پارہی ہیں،نہ ہی وہ ہندویامسلم سماج میں قابل قبول سمجھی جارہی ہیں ،لیکن جذبات کی رو میں آکر اٹھائے گئے اقدامات سے مجبورہوکروہ ذلیل وخوارہوکربھی زندگیاں گذاررہی ہیں۔
کیسے ہورہی ہیں ٹراپ؟:۔
بھگوالئوٹراپ کا شکارہونےکے مختلف طریقے ہیں،عام طورپر اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلم لڑکیاں کارپوریٹ کمپنیوں میں نوکریوں کیلئےنکل جاتی ہیں ،وہاں پرانہیں حد سے زیادہ سماجی آزادی (سوشیل فریڈم) مل جاتی ہے،جس کا غلط استعمال کرتے ہوئےیہ لڑکیاں بہک جاتی ہیں اوروہ محبت کے نام پر پہلے سے ہی ذہنی طورپر سنگھی سوچ رکھنےوالے نوجوانوں کے ہاتھ لگ جاتی ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ ہر نوجوان بعدمیں استحصال نہیں کرتا،بلکہ اُنہیں خوش رکھتاہے،لیکن مسلم لڑکیوں کو دین سے دورکرنے کیلئے سنگھ پریوارکا جو ایجنڈ اہے وہ کامیاب ہوجاتا ہے ۔ دوسراطریقہ یہ ہے کہ غربت اورمالی پریشانی کی وجہ سے عام طورپر مسلم لڑکیاں چھوٹی دکانوں، شاپس یاپھر شورومس میں روزگارحاصل کرتی ہیں،وہاں پر پیسوں کی لالچ دیکر ان بچیوں کا استحصال کیاجاتاہے،تمام لڑکیاں ان جالوں میں نہیں پھنستی ،لیکن اکثرلڑکیاں اس جال میں پھنس کر یاتو زندگی بھران کے ساتھ ہوجاتی ہیں،یاپھر گھروں سے فرارہوکر اپنی زندگیوں کو تباہ کرلیتی ہیں۔سوشیل میڈیابھی بھگوالئوٹراپ کا اہم ہتھیارہے۔فیس بک ، انسٹا گرام،واٹس ایپ، اسناپ چاٹ جیسی سوشیل اپلیکیشن پر مسلم لڑکیوں کو پھسایاجاتا ہے یاپھر اُن لڑکیوں سے چکنی چپٹی باتیں کرکے اُنہیں اپنی طرف راغب کیاجاتاہے اور وہ ان لڑکیوں کو اپنے جال میں پھانس لیتے ہیں۔بعض اوقات غیر مسلم نوجوان مسلم لڑکیوں سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ شادی کے بعد وہ اسلام قبول کرلینگے۔ان باتوں کو سوچے سمجھے بغیر مسلم لڑکیاں ان کی تحویل میں چلی جاتی ہیں۔کئی موقعوں پر صرف شادی کیلئےہی غیر مسلم لڑکے چھپ چھپاکر اسلام قبول کرلیتے ہیں یا پھر یوں کہیے کہ نام بدل لیتے ہیں اور پھر شادی کے کچھ ہی دن بعد اپنے حقیقی مذہب میں لوٹ جاتے ہیں،جس کی وجہ سےپیارکی ماری لڑکی بھی اُسی کے مذہب سے لگ جاتی ہے یاپھر نام کی مسلمان اوروہ کام کا ہندو بن کر رہ جاتے ہیں۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق پچھلے تین سالوں میں40 ہزار مسلم لڑکیاں مرتددہوچکی ہیں۔
سوشیل میڈیاپر شیئر:۔
عام طورپر اسپیشل میرج ایکٹ کے مطابق شادی کیلئے جو عرضیاں دائرکی جاتی ہیں،ان عرضیوں کو لوگ بڑے ہی جذبات کے ساتھ،تیزی سے سوشیل میڈیاپر شیئرکرتے ہیں،جبکہ اُس عرضی میں ہی لڑکی کا نام اور پتہ باقاعدہ ہواہوتاہے،ان حالات میں لڑکی کے گھروالوں یاپھر لڑکی سے ہی ذمہ داران ملاقات کرکے ان پیچیدگیوں سے بآورنہیں کرتے،بلکہ یہ سمجھتے ہیں کہ سوشیل میڈیامیں اس لڑکی کی عرضی کو شیئرکرنے سےان کی ذمہ داری پوری ہوجاتی ہے۔اگر کسی مسلم لڑکی کی شادی غیر مسلم لڑکے سے ہونے کیلئے رجسٹرارآفیس میں عرضی ملتی ہے تو ایسی صورت میں مسلم ذمہ داروں کو چاہیے کہ وہ سوشیل میڈیا اس عرضی کو شیئرکرنے سے قبل متعلقہ علاقوں کے ذمہ داروں سے رابطہ کریں یا خود رابطہ کرنے کی کوشش کرتے ہوئے لڑکی کے گھر والوں سے بات کریں۔اکثر دیکھاگیاہے کہ جیسے ہی سوشیل میڈیامیں اس طرح کی پوسٹ ظاہرہوتی ہیں تو لڑکی کے گھروالےشرمندگی کی وجہ سے گھر بار چھوڑ دیتے ہیں،جس سے حل ہونے کا معاملہ بھی حل ہونے سے رہ جاتاہے۔
بیداری ضروری ہے:۔
کوئی بھی لڑکی کسی بھی صورت سے مرتددہوسکتی ہے،اس کی دو وجوہات ہیں،پہلی وجہ یہ کہ دینی تعلیم سے ناواقفیت ہے جو عام طورپر گمراہی کی وجہ بن جاتی ہے،دوسری وجہ سماجی مسائل ہیں،جس کی وجہ سے لڑکیاں مجبوری کی حالت میں مرتددہونے کیلئے نکل جاتی ہیں۔مالی پریشانی،عمرہونے کے باوجود رشتہ نہ ملنا،جہیزکو پورانہ کرنااہم سماجی مسائل ہیں،اس کے علاوہ اہم مسئلہ یہ ہے کہ مسلم سماج میں مسلم نوجوانوں کی تعلیمی شرح لڑکیوں کے مقابلوں میں کم ہے،جبکہ وہ کم تعلیم یافتہ لڑکوں یاپھر اپنے سے کم عہدے پر فائز لڑکوں کے ساتھ شادی نہ کریں۔جس طرح سے مسلم لڑکیاں تعلیم حاصل کررہی ہیں اسی طرز پر مسلم لڑکوں کو بھی تعلیم سے آراستہ کروانے کی ضرورت ہے۔ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ مسلم نوجوان نشے کی عادت میں پڑ کر اپنی جسمانی ،اخلاقی اور معاشی طاقت گنواں رہے ہیں،جوعورتوں کو دوسرے مردوں کی طرف راغب کررہی ہیں۔ان تمام بنیادی سماجی مسائل کا حل نکال کرہی مسلمان اپنی بہن بیٹیوں کو ارتدادکی لعنت سے بچاسکتےہیں۔
