کیا بنگلوروکے مسلمان توہین رسالت کو بڑھاوادینےوالے کو اپنا قائد مانینگے؟

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔کرناٹکا اسمبلی انتخابات قریب ہیں،ایسے میں ٹکٹوں کے بٹوارے کو لیکر کانگریس پارٹی میں ہلچل تیز ہوچکی ہے،لیک ریاست کی راجدھانی بنگلورومیں ایک اسمبلی حلقہ ایسابھی ہے جہاں پر توہین رسالت کا معاملہ پیش آیاتھااور اس توہین رسالت کی پشت پناہی کرنےوالے لیڈر کو کانگریس پارٹی نے دوبارہ ٹکٹ دینے کاارادہ کیاہے۔سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ خود ایک مسلم لیڈر اُس شخص کو ٹکٹ دلوانے کیلئے ایڑی چوٹی کازورلگارہاہے یہاں تک کہ اُس شخص نے توہین رسالت کی پشت پناہی کرنےوالے کانگریس لیڈر کو اپنا بھائی تک قرار دیاہے۔جہاں مسلمان اپنے رسولﷺکو جان سے زیادہ چاہتے ہیں اور اُن کیلئے ہر طرح کی قربانی دینے کیلئے تیارہوتے ہیں،وہیں کانگریس پارٹی کے مسلم لیڈروں نے توہین رسالت کرنےوالے کی پشت پناہی کرنےوالے اُمیدوارکوٹکٹ دلوانا اپنا فریضہ سمجھ رہے ہیں،کیا سیاست ہی ان مسلم لیڈروں کیلئے سب کچھ ہے۔آنےوالے اسمبلی انتخابات میں یہاں کے غیورمسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمان کے آقاﷺکی شان میں گستاخی کرنےوالے اُ میدوارکو کس طرح سے ذلیل کرینگے یاپھر چند پیسوں کی خاطر اُس کی تائید کرینگے۔عجیب تو بات یہ ہے کہ شانِ مصطفیٰﷺمیں گستاخی کرنےوالے شخص کی حقیقت کو عوام کی زبان سے منظرِ عام پر لانے کی وجہ سے اُس شخص نے میڈیاکاہی منہ بندکرنے کی کوشش کی ہے۔آخر مسلمانوں کے نبیﷺکی شان میں گستاخی کرنےوالے شخص سے یہی تو اُؐمید کی جاسکتی ہے،اب بنگلوروکے غیرت مندعلماء،عمائدین اور مسلمانوں کی ذمہ داری ہےکہ وہ شانِ مصطفیٰﷺمیں گستاخی کرنےوالے گستاخ کو معقول سبق سکھانے کا بیڑااٹھائیں۔