فتنوں کے اس دور میں عورتوں کیلئے دینی تعلیم کی اہمیت و ضرورت : ناشرِ اسلام

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر

شیموگہ :۔ناشراسلام شیموگہ کا سالانہ اجلاس اخلاص انگلش اسکول میں منعقد ہوا۔ طالبہ ندرت بیگم نے کلام الٰہی سے جلسہ کا آغاز کیا اور طالب العلم محمد کفیل نے نعت شریف کا نذرانہ پیش کیا۔جبکہ ناشر اسلام کے جوائنٹ سکریٹری محمد شکیل نے مہمانوں کا استقبال کیا۔ مہمان خصوصی باجی صاحبہ نے اپنی تقریر میں کہاکہ علم ہی وہ واحدشئے ہے جس کے ذریعے دینی و دنیاوی امور بحسن خوبی انجام دئے جاسکتے ہیں۔ اسی لئے اسلام نےدینی علم کا حاصل کرنا مرد و عورت دونوں کیلئے فرض قرارد یا گیا ہے۔اسلام نے جس طرح مرد پردین کی بنیادی معلومات حاصل کرنا واجب قرار دیا ہےاُسی طرح عورت پر بھی دینی تعلیم کے زیورسے آراستہ ہونا فرض قرارد یا ہے۔ انسانی معاشرہ اُس وقت تک نیک اور پاکیزہ نہیںبن سکتا جب تک اس میں رہنے والے مرد اور عورت دونوں نیک اور پاکیزہ کردارنہ ہوں ۔ گھریلو ماحول کو دینی و خوشگوار بنانے اور بچوں کی تعلیم و تربیت میں ماں کا سب سے اہم رول ہے، ماں کی گود بچوں کی پہلی درسگا ہ ہوتی ہے۔ بچپن میں بچوںکے صاف و شفاف ذہن میں جو کچھ اچھی اور دینی باتیںڈالی جائیں وہ نقش کل حجر کی طرح مستحکم اور پائیدار ہوتیں ہیں، غلط چیزیں ڈالی جائیں تو بچہ زندگی بھر غلطیاں کرتا رہے گا۔بلاشبہ عورت کو اسلامی تعلیم سے آراستہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ پورے خاندان کو اسلامی سانچے میں ڈھال دینے کی بنیاد رکھ دی گئی ہے ، کیونکہ ماں اگر اسلامی تعلیم و تربیت کے زیو ر سے آراستہ ہوگی توتوحید، شرک اور سنت و بدعت سے آگاہ ہوگی اور اسلامی جذبات واحساسات سے سرشارہوگی تو اس کی گود میں پلنے والے بچے بھی صحیح مسلمان اور اسلامی اقدار و روایات کے سچے پاسبان ہوں گے۔ آج جبکہ ہر طرف دین بے زاری ، الحادولادینیت اور ارتداد کے فتنے عا م ہیں، آئے دن مسلم لڑکیاں غیر مسلم لڑکوں کی مصنوعی محبت کے جال میں پھنس کر عزت و آبرواور ایمان و اسلام سے ہاتھ دھو بیٹھی ہیں ، غیر مسلموں کے مکرو فریب کا شکار ہوکر ان سے شادیاں رچارہی ہیں اور چند ہی دنوں کے بعد جب جعلی اور فریب عشق کا راز کھلتا ہے تو ظلم و ستم کا شکار ہونے کےبعد کہیں کی نہیںرہ جاتیں ۔ ایسے میں یہ سوا ل پیداہوتاہےکہ یہ نوبت کیوں آئی؟اس کی اہم وجہ ہماری بچیوں کا دینی تعلیم وتربیت اور اسلامی اقدار وروایات سے عاری ہونا ہے۔ آ ج کے اس فتنے کے دور میں خاص کر گھر کی مائوں کو اپنے گھر کے ماحول کو دینی بنانا ، اسلام کی بنیادی چیزوں پر خو د بھی عمل کرنااور اپنی اولاد کو عمل کرنے والابنانا بے حدضروری ہے، علم سیکھنے کی کوئی عمر نہیں ہوتی، ہمارے شہر میںایسے بہت سےمکاتب و مدارس ہیں جہاں سے عورتیں دینی تعلیم سے آراستہ ہوسکتی ہیں۔ مائوں کو چاہیے کہ اپنی مصروفیات میں تھوڑا سا وقت نکال کر دین کی بنیادی معلوما ت حاصل کریں، مائیں خود بیہودہ ملبوسات ، بے جا فیشن ، فلم بینی اور موبائیل کے استعمال سے، گریز کریں، قرآن کی ہر دن کم از کم ایک آیت ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ پڑھیں ، آپ کی اپنی زندگی کے ساتھ ساتھ ساتھ آپ کی اولاد کی زندگی دینی ماحول میں ڈھل جائے گی۔ مہمان خصوی کی تقریر کے بعد شہر شیموگہ کی معروف شخصیت سکینہ خانم کو ان کی تعلیمی اورسماجی خدمات کو عوض ادارہ کی جانب سے حضرت فاطمۃ الزہرہؓ ایوارڈ پیش کیا گیا۔ سکینہ خانم کے علاوہ جلسہ میں اخلاص اسکول کی میر معلمہ فرزانہ خانم، الہلال اسکول کی میر معلمہ ریشمہ محمود، الفاروق اسکول کی میرمعلمہ مبینہ خانم ، امبرویلی اسکول کی معلمہ فاطمہ، سرکاری اسکول کی ہسوڈی کی میر معلمہ نوشاد بانو، سرکاری اسکول رامن کوپہ کی معلمہ شفانہ کوثر، سرکاری اسکول ین ٹی روڈکی معلمہ عزیزہ اصغری ، سرکاری اسکول کڈیکل کی معلمہ سمیہ پروین اور سرکاری اسکول کیسونا کٹے کی میر معلمہ تسنیم کوثر بحیثیت مہمانان خصوصی شریک رہیں۔ادارہ کی جانب سے اراکین اور سوپر وائزرس کیلئے بھی امتحانات منعقد کئے گئے تھے جس میں پہلی انعام قمرالنساء نے حاصل کیا جبکہ دوسرا انعام مہرین مجیب نے حاصل کیا ۔ امسال میں سب سے اعلیٰ نمبرات حاصل کرنے والے اخلاص اسکول کے طالب العلم عبدالرحمٰن شیخ بن محمد شفیق کو ادارہ کےصدر عبدالقدیر قریشی ، اور اخلاص اسکول کے سکریٹری سید نور الحق نے ٹاپر ایوارڈ سے نوازا۔ اس امتحان میں مختلف اسکولوں کے کل 208طلباء و طالبات ، اساتذہ اور گھریلوخواتین کو انعامات واسناد سے نوازا گیا۔ جلسہ میں محمد ثناء اللہ، محمد ابراہیم، عبدالرحیم، مجیب اللہ، حفیظ اللہ، ظفراللہ، صالح خان سالک،عظمت النساء ، ریشما بانو، سمیہ خانم، عربیہ بانو کے علاوہ کثیر تعداد میں والدین ، اساتذہ اور طلباء وطالبات نے شرکت کی۔ عبدالوسیم نے مہمانوں کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ ناشر اسلام ان تمام علمائے کرام جو کتابوں کی ترتیب دینے جنہوںمیں ہمارا بھرپورتعاون کرتےآرہے ہیں، اسکول کے منتظمین و معلمین، والدین اور طلباء و طالبات اور ان خیر خواہ حضرات کا شکریہ ادا کیا۔