بند کرو نفرت کی دکان:آرایس ایس کس کی وفادار؟ جمہوریت سے نفرت، آئین ہند کے خلاف قومی اتحاد سے اختلاف

مضامین
از:۔اسماء جبین ۔اسسٹنٹ پروفیسر، شعبہ اردو ۔یشونت رائو چوہان آرٹس اینڈسائنس کالج،مہاراشٹر
راشٹریہ سیوا سنگھ اور جن سنگھ کے رہنما ہمیشہ اپنی پوری طاقت اور توجہ اس بات پر صرف کرتے رہے ہیں کہ ان کی جماعت فرقہ پرست نہیں بلکہ ایک قومی تنظیم ہے جس کے پیش نظر صرف ملکی مفادات رہتے ہیں۔ چنانچہ خود کو محب وطن اور وطن پرست ثابت کرنے کے لئے مختلف بیانات  دیتے رہتے ہیں لیکن ان کے بیانات سراسر جمہوری نقطہ نظر کے خلاف ہوتے ہیں۔ یہ لوگ قوم پرستی اور قومیت کی تعریف اپنے طور پر کرتے ہیں جو اس قوم پرستانہ تصور سے بالکل الگ ہے جس پر تحریک آزادی کی بنیاد تھی ۔ تحریک  آزادی میں تمام ہندو مسلمان لیڈروں کے نظر میں تمام ہندوستانی ایک قوم تھے خواہ وہ مذہبی عقیدے کے اعتبار سے ایک دوسرے سے کتناہی مختلف کیوں نہ ہوں اسی نقطہ نظر کو سامنے رکھتے ہوئے انھوں نے ہمیشہ شانہ بہ شانہ ملا کر جد و جہد آزادی میں حصہ لیا۔ یہی بات جن سنگھ پالیسی کے خلاف ہے کیونکہ ان کا ذہن ہمیشہ ایک دوسرے نقطہ نگاہ سے سوچتا  اور اس پر عمل کرتا ہے ان کی نگاہ میں بھارت کے فرزند کہلائے جانے کے مستحق صرف ہندو ہےوہ ہی تنہا ہندوستان کے قومی شہری ہیں لہذا جو ہندو نہیں وہ ہندؤں کے برابر حقوق کے بھی مستحق نہیں۔ سیکولرازم کا جو  تصور ہماری جمہوریت کی بنیاد ہے اور ہندوستان کے دستور کی روح ہے۔ ، ان لوگوں کے نزدیک "بد عقلی سے کام لیتے ہوئے چوروں، حملہ آوروں اور اپنے جگر کے ٹکڑوں کو ایک سطح پر جمع کر دینے کے مترادف ہے”
مسلمانوں کے خلاف انھوں نے ہمیشہ جھوٹی کہانیاں سنا کر ہندوں کو مسلمانوں کےخلاف بھڑ کایا ہے؟ اگر ان خون کھولا دینے والے اور غیر ذمہ دارانہ بیانات کے پیش نظر ان پر فرقہ واریت اور ملک دشمنی کا الزام لگایا جائے تو کیا غلط ہے ؟؟جن سنگھ نے ہمیشہ  قسم قسم کے پروپیگینڈوں کے سے کام لیا جس میں کسی بھی صورت سے مسلمانوں کے خلاف نفرت اور عناد کا بیج بویا جا سکے یا ایسے خیالات کا پر چار کیا ہے جس سے یہ ثابت ہو کہ مسلمان منفرد عقیدہ  کے ساتھ ساتھ قوم پرستی کے جذبہ سے بھی یکسر خالی ہے۔
اس کے علاوہ جن سنگھ ہندوستان میں اسلام کے ترقی کرنے اور مسلمانوں  کی تعداد میں زیادتی کا  سب یہ بتاتے ہیں کہ مسلمانوں نے ہندوستان پر فتح  کے بعد محکوم لوگوں سے زبردستی  اپنے مذہب کی اشاعت کی ان کے عقائد میں طرح طرح کی رخنہ ا ند ا زیاں کیں اور انھیں مجبور کیا  کہ وہ اپنا سابقہ عقیدہ ترک کر کے ان کے عقیدے کو اپنائے لہذا مسلمانوں نے جہاں جہاں حملہ آور ہو کر سیاسی حکمرانی کی وہاں انھوں نے مذہبی اجارہ داری کی ،  اب جن سنگھ اس کے تدراک کے لئے یہ راہ نکالتی ہے کہ یہ ہمارا فرض ہے کہ اپنے ان وقت کے ہاتھوں ستائے ہوئے بھائیوں کو جو صدیوں سے مذہبی غلامی کا شکار ہیں ان کے آبائی گھر واپس لے آئیں  گویا با الفاظ دیگر تمام غیر ہندؤوں کو اور خاص طور پر مسلمانوں کو ہندو مذہب اختیار کر لینا چاہے تب ہی وہ بھارت کے حقیقی شہری مانے جا سکتے ہیں۔ اور اسی وقت ان کو ہندوں کے برابر حقوق دیے جا سکتے ہیں۔ اسی پر بس نہ کرتے ہوئے جن سنگھ کا کہنا ہے کہ مسلمانوں میں ہتھیار اور گولہ بارود جمع کرنے کی کوشش بلا روک ٹوک جاری ہے ان کی مساجد میں میٹنگس ہوتی ہے اور لوگوں کو تشدد پر اکسایا جاتا ہے ۔ 1947 میں جو حالات پیدا ہوئے تھے وہ اب اور بھی تیزی سے پھیلنا شروع ہو گئے ہیں جن سنگھ کا یہ فرقہ وارانہ پروپیگنڈہ صرف عام مسلمانوں تک  ہی  محدود نہیں ۔۔ ملک کے سربرآوردہ لیڈروں اور رہنماؤں کے بارے میں بھی کیا گیا ہےجس کی  تازہ مثال مولانا توقیر رضا کی گرفتاری ہے۔۔
ملک میں اتحاد او یگانگت  کی فضا کو برقرار رکھنے کے لئے کچھ تاریخی سیاسی قومی واقعات ہمیشہ پیش نظر رکھنے سے آپس میں قلبی لگاؤ اور محبت اور اخوت کے جذبات پیدا ہونے لازمی ہوتے ہیں جبکہ جن سنگھ کے نزدیک ایک ہندو رانی کی طرف سے ہمایوں کے ہاتھ پر راکھی باندھ کر اسے بھائی بنائے جانے والے جیسے شاندار تاریخی واقع کی کوئی اہمیت نہیں جن سنگھ کا مقصد ملک میں ہر وقت خوف دہشت، تناؤ اور ایک دوسرے کو مشتبہ نظروں سے دیکھتے رہنا فسادات کی صورت میں نمایاں ہونا۔کسی نہ  کسی واقعہ کو مذہبی سیاسی یا ملکی اور قومی بغاوت کا رنگ دے کر ان تمام تعصبات کا حساب بے باق کرنے کی کوشش کرنا ہے لیکن صرف یہ چیزیں ہی ملک کے لئے خطرہ نہیں بلکہ ان کا ایک اور نیا فتہ بے روز گار  اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلم نوجوانوں کو اعلیٰ عہدوں اور نوکریوں کی لالچ دے کر انھیں اپنی ہی قوم کے مخالف کرنا تاکہ مستقبل میں مسلمانوں کے حالات اور بھی بدتر ہوان نوجوانوں کی اس طرح برین واشنگ کرتے ہیں کہ انہیں  یہ لگتا یا ہے کہ بی جے پی جو کچھ کر رہی ہے وہ ملک کے مفاد کے لئے ہیں چاہے وہ بابری مسجد کا مسئلہ ہو یا  کشمیر کا یہ نوجوانوں کو بارآور کرواتے ہیں کہ زمانے سے چلتے آرہے مسئلوں کو سنگھ.نے حل کر دیا  لیکن ان سب معاملوں میں صرف فیصلہ ہوا ہے انصاف نہیں اور فیصلے صحیح اور غلط ہو سکتے ہے اور بی جے ہی نے جو بھی فیصلہ کئے ہیں وہ غلط ہے ان میں فیصلہ تو ہوا ہے لیکن انصاف نہیں۔ ان فرقہ پرست فسطائی طاقتوں نے تمام تکلفات کو بالائے طاق رکھ کر ہندو راشٹر بنانے کا اعلان شروع کر دیا ہے عدالتوں کا طرز عمل مایوس کن ہے حکومت کی نا اہلی اس حد کو چھو رہی ہے کہ بجا طور پر لوگوں نے کہنا شروع کر دیا ہے کہ اس کی نا اہلی اور بے عملی  اس بات کا پتہ دیتی ہے کہ موجودہ صورت حال کو پیدا کرنے کی نہ صرف وہ ذمہ دار ہے بلکہ اس میں بالواسطہ تعاون بھی بہم پہنچارہی  ہے لیکن اس گھٹا ٹوپ اندھیرے میں کچھ درخشان ستارے بھی ہے جن کی بدولت شب تاریک کے پردے سے سپیدہ سحر کے طلوع ہونے کی توقع ہے۔ لہذا ہرسچےہندوستانی کا فرض ہے کہ وہ ٹھنڈےدل و دماغ سے سوچئے کہ جن سنگھ کی پالیسی کا ملک کی ترقی پر کیا اثر پڑ رہا ہے اور اس حیثیت سے وہ ملک دوست ہیں یا دشمن ؟