از:۔ ادریس اصغر تریکرے۔9448211349

ہندوستان ایک عظیم جمہوری ملک ہے، جہاں مختلف مذاہب، اور مختلف زبانوں کے لوگ ایک ہی دھرتی پر ساتھ رہتے ہیں۔ یہ تنوع ہی ہندوستان کی خوبصورتی ہے۔ مگر آج ملک ایک نازک دور سے گزر رہا ہے۔ معاشی بدحالی، بے روزگاری، بڑھتی ہوئی نفرت، سماجی عدم برداشت، اور سیاسی تقسیم نے عوام کے دلوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ ایسی صورتِ حال میں ہر شہری کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی ذمہ داری بھی بڑھ جاتی ہے کہ وہ ہوش اور دانشمندی سے کام لیں اور اپنے کردار کے ذریعے ملک میں امن و استحکام پیدا کریں۔
گزشتہ چند برسوں میں ملک کے سیاسی اور سماجی منظرنامے میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ کہیں مذہب کے نام پر نفرت پھیلائی جا رہی ہے، کہیں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے ۔ روزگار کی کمی، تعلیم میں پسماندگی اور معیشت کی گراوٹ نے نوجوانوں کو مایوسی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم جذبات کے بہاؤ میں آنے کے بجائے عقل، حکمت اور صبر سے کام لیں۔
یہ بات تاریخ کے صفحات میں درج ہے کہ ہندوستان کی تعمیر و ترقی میں مسلمانوں کا کردار ناقابلِ فراموش رہا ہے۔ تعلیم، فن، تہذیب، سائنس، تعمیرات، تجارت ہر میدان میں مسلمانوں نے اپنی خدمات پیش کی ہیں۔ آج پھر وقت نے ہمیں اسی مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ ہم اپنے اس شاندار ماضی کو یاد کریں اور اپنے حال کو بہتر بنانے کی کوشش کریں۔
آج مسلمانوں کے سامنے سب سے بڑا چیلنج تعلیم کا ہے۔ قومیں ہمیشہ علم کی بنیاد پر ترقی کرتی ہیں۔ ہمارے نوجوان اگر عصری تعلیم، ٹیکنالوجی، سائنس، اور دینی علم کو ساتھ لے کر چلیں تو کوئی طاقت ہمیں پیچھے نہیں رکھ سکتی۔ ہمیں اپنے تعلیمی اداروں کو مضبوط بنانا ہوگا، بچّوں کو اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں تک پہنچانا ہوگا، اور اُن میں ایمان، اخلاق اور خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا۔
مسلمانوں کو اس وقت سب سے زیادہ اتحاد، اتفاق اور تنظیم کی ضرورت ہے۔ باہمی اختلافات اور فرقہ وارانہ تقسیم نے ہمیں کمزور کر دیا ہے۔ ہمیں اپنے درمیان محبت اور تعاون کی فضا قائم کرنی ہوگی۔ اختلافِ رائے کو نفرت میں بدلنے کے بجائے باہمی احترام اور خیر خواہی میں تبدیل کرنا ہی اصل دانشمندی ہے۔
اسلام کا پیغام محض عبادات تک محدود نہیں بلکہ پورے انسانی معاشرے کی فلاح پر مبنی ہے۔ مسلمان اگر سچائی، دیانت، عدل، صفائی اور خدمت کے اصولوں پر عمل کریں تو وہ نہ صرف اپنے دین پر عمل کر رہے ہوں گے بلکہ اپنے ملک کی بھی خدمت کریں گے۔ ہمیں اپنی مساجد، مدارس اور تنظیموں کو اصلاحِ معاشرہ کے مراکز بنانا چاہیے، جہاں امن، محبت اور بھائی چارے کا پیغام عام ہو۔
دینِ اسلام ہمیں اپنے وطن سے محبت، اس کی خدمت، اور امن کے قیام کی تعلیم دیتا ہے۔ وطن کے خلاف بولنا نہیں بلکہ اس کے لیے بہتر کردار ادا کرنا ہماری دینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ مسلمان اپنے کردار، محنت، ایمانداری اور خدمت کے ذریعے یہ ثابت کریں کہ وہ اس ملک کے سب سے وفادار شہری ہیں۔مشکلات ہمیشہ رہتی ہیں، مگر قومیں انہی مشکلات میں اپنی راہ تلاش کرتی ہیں۔ ہمیں مایوس ہونے کے بجائے امید، صبر، اور عمل کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اگر ہم اپنے اندر علم، ایمان، اتحاد، اور اخلاق پیدا کر لیں تو نہ صرف ہماری حالت بدلے گی بلکہ پورے ملک کا ماحول بہتر ہوگا۔یہی وقت ہے کہ ہم خود کو سنواریں، اپنی نسلوں کو تعلیم دیں، دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں، اور اپنے وطن کے امن و بھائی چارے کے علمبردار بن جائیں۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے۔ ’’بیشک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدل دے‘‘۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو پہچاننے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔۔۔
