نہ ستایش کی تمنا، نہ صلے کی پروا!

دلچسپ نیوز سلائیڈر مضامین نمایاں

نہ ستایش کی تمنا، نہ صلے کی پروا!

تحریر سے منسلک تصویر کے بارے میں کچھ جاننے سے پہلے ہمیں غور کرنا چاہیے کہ اگر ہم لیڈر بن گئے، اپنے تو اپنے، غیر بھی ہمارا احترام و اکرام کرنے لگیں؛ تو ہمارا رویہ کیا ہوگا؟ یہ مرتبہ درکنار ؛ اگر اپنی قوم کے ہی چند لوگ آپ کے عقیدت مند ہوجائیں، آپ کی ہر بات ماننے لگ جائیں؛ تو بتائیے، آپ کا رویہ اوروں کے ساتھ کیسا ہوگا؟ سوچنے اور تصوراتی دنیا میں جانے کے بعد زرا اس لیڈر کی سادگی اور جرات پر آتے ہیں، بیباک صحافی اور سحرانگیز قلمکار شورش کاشمیری کی زبانی:

"مجھے ان(خان عبدالغفارخاں) کی ایک اداکبھی نہیں بھولتی،بہارکے فسادات (1946) میں وہ پشاور سے پٹنہ پہنچے،انھیں اسٹیشن پر لینے کے لیے وزیرِاعظم بہار اوران کی کابینہ کے بعض دوسرے ارکان موجود تھے،ایک لمبا تڑنگا انسان تھرڈکلاس کے ڈبے سے اترا،اپنا بستر خود اٹھایا اور عقیدت مندوں کے اصرارکوپروامیں نہ لاتا ہوا باہر نکل گیا، اگلے دن متاثرہ علاقے کا دورہ کرنے کے لیے روانہ ہونے لگے، تو وزارتِ بہارنے ان کے لیے بڑی عمدہ موٹر کا انتظام کررکھاتھا اور معیت میں حفاظتی دستے لگادیے تھے؛لیکن آپ نے سختی سے انکار کردیا،ایک جیپ چن لی اور دوچار رضاکاروں سمیت روانہ ہوگئے،ہر کہیں ہجوم نے خیر مقدم کیا اور فواکہات و مشروبات پیش کرنا چاہے؛لیکن آپ شکریے کے ساتھ انکارکردیتے اورنہایت نرمی سے پوچھتے کہ ’’میری قوم کوتوآپ بے گناہ مارتے ہیں اور مجھے فواکہات و مشروبات پیش کرتے ہیں،آخراِس عقیدت اور اُس شقاوت کا مطلب کیاہے؟‘‘۔

(آغاشورش کاشمیری،قلمی چہرے،ص:176)