بھدراوتی :۔مرکزی ادارہ انجمن اصلاح المسلمین بھدراوتی کی جانب سے آج بھدراوتی تعلقہ تحصیلدار کو ایک درخواست پیش کی گئی جس میں کرناٹکا اسٹیٹ انسداد گائوکشی اور جانوروں کے تحفظ ایکٹ 21-2020کے ضوابط کے ماتحت اورشق18 کے مطابق آنے والے قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے بڑے جانوروں کے ذبحہ اورفروخت کا موقع دینے کامطالبہ کیا گیا ہے ۔تنظیم نے اس سلسلے میں بتایا ہے کہ شہر میں جملہ 15 بڑے جانوروں کی گوشت کی دکانیں موجود ہیں اوریہاں قانونی دائرے میں رہتے ہوئے ماضی میں لائے گئے انسداد گائوکشی کے قوانین اور موجودہ ترمیم شدہ قوانین کے مطابق ہی اپنا کاروبارچلاتے آرہے ہیں۔ اس کاروبار سے سینکڑوں خاندان منحصر ہوکر زندگی گذاررہے ہیں۔ اب تک یہاں کوئی ایسی غیر قانونی کام نہیں ہوئے ہیں جس کی وجہ سے قانون کی نظر میں شرمندہ ہونا پڑے لیکن حالیہ دنوں میں ان دکانوں کو بند کردیا گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جسطرح بنگلورو، داونگیرے، ہبلی اورچتردرگہ میں انسداد گائوکشی قوانین پر عمل کرتے ہوئے کاروبار کرنے کا باضابطہ لائسنس جاری کیا گیا ہے۔ اسی طرح تعلقے میں بھی اس کاروبار کو جاری رکھنے کے لائسنس جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن یہاں اس کیلئے اجازت نہیں دی گئی ہے ۔ شیموگہ کے لائن سفاری کیلئے بھی یہیں سے ٹینڈر کی بنیاد پر گوشت کی رسائی کی جاتی ہے۔ لیکن اچانک ان دکانوں کو بند کردینے سے اس پر منحصر سینکڑوں خاندان مشکلات میں آچکے ہیں۔ تعلقہ تحصیلدار سے مطالبہ کیا گیا کہ کرناٹکا انسداد گائوکشی اور تحفظ کے قوانین 2020 کے تحت یعنی کالم18 کے مطابق13 سال کی بھینس اور بیل کی خریداری کرنے اوراسکے گوشت کو فروخت کرنے کی اجازت دینے کی درخواست کی گئی ۔ سماجی انصاف کے نظریہ سے اس کاروبار پر منحصر گوشت کے کاروباریوں کو اپنی دکانیں کھولنے اور لائسنس جاری کرتے ہوئے کاروبار کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس موقع پر مرتضیٰ خان، باباجان ، امیرجان،عبدالقادر،جاوید خان،سید چاند، ابوبکر،وحید خان وغیرہ موجودتھے۔
