دسویں کے امتحانات کو کامیاب بنانے کیلئے ممکنہ اقدامات اٹھائے جارہے ہیں : ویشالی

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ: کوویڈ کے پس منظر میں اس سال ایک نئےطریقہ کار اور کثیر انتخابی ماڈل پیپر کے تحت 19 تا 22 جولائی کو ایس ایس ایل سی امتحانات کا انعقاد ہونے جارہا ہے۔ امتحانات کے دوران کسی طرح کی رکاوٹ اور خوف کےبغیرامتحانات کو کامیاب بنانے کیلئے ہرممکن کوشش کی جارہی ہے۔ ان باتوں کا اظہارضلع پنچایت سی ای او ایم ایل ویشالی نے کیا ہے۔ انہوںنےمنگل کے روز ضلع انتظامیہ دفتر میں منعقدہ ایس ایس ایل سی امتحانات کی تیاریوں کی پیش رفت کےاجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے پچھلی دفعہ کوویڈ کےدرمیان بھی کامیابی کے ساتھ ایس ایس ایل کا امتحان لیا ہے۔انہوں نے یقین دہانی کی ہے کہ اس بار بھی امتحانات کو کامیاب طریقے سے نمٹانے اورطلباء کیلئےآزادانہ ماحول پیدا کرنے کیلئے تمام اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔ ایس ایس ایل سی ایگزامنیشن بورڈ کے رہنمائی ہدایت کے مطابق ضلع میں ہر تعلقہ میںامتحانی سنٹر کی نشاندہی کی گئی ہے اور کل 150 امتحانی مراکز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ امتحانی بورڈکی جانب سے جاری کردہ ایس او پی (اسٹانڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر) کے مطابق متعلقہ حکام کو پہلے ہی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ امتحانی مراکز میں بیٹھنے کے انتظامات ، خصوصی کمرے اور صحت کی جانچ کیلئے علیحدہ کاؤنٹرقائم کریں ۔ ہرایک امتحانی مراکز میں تھرمل سکیانر، پلس آکسیمٹر اور فرسٹ ایڈ باکس سسٹم اور محکمہ صحت کے عملے کے ساتھ ہیلتھ چیکنگ کاؤنٹر قائم کرنے کیلئے ڈی ایچ او کو ہدایت دی گئی ہے۔ امتحانی مراکز اور فرنیچر وغیرہ کو امتحان سے قبل اور امتحانات کے بعد سینیٹائرز کرنےکے بارے میں بتایا گیا ہے۔امتحانی مراکز کے انٹرنس میں ہی صحت کی جانچ کا کائونٹر قائم کیا جائیگا۔ یہ صبح30.8بجے سے کھلارہےگا اورطبی عملہ،آشا کارکنوں کے ذریعہ جانچ کی جائیگی۔ ہر امتحانی سنٹر کے داخلی دورازے پراوراندرونی حصے میں کم ازکم6 فٹ کافاصلہ یا2  میٹر کا سوشیل ڈسٹینس کو برقرار رکھنے کیلئے مناسب انتظام کرنے کیلئے بی ای او کو ہدایت دی گئی ہے۔ ہرایک ڈیسک پر ایک ہی طالب علم کی مناسب سے ایک کمرے میں زیادہ سے زیادہ 12 بچوں کا بندوبست کیا جانا چاہئے ۔ بی ای او کو مشورہ دیا کہ وہ بچوں کو گھر سے ہی پانی کی بوتل ساتھ لانے اوردور دراز سے آنے والے طلباء کو کھانا ساتھ لانے کی اجازت دیں۔اس کے علاوہ جن بچوں کے ساتھ ٹرانسپورٹ کا مسئلہ درپیش ہے انہیں امتحانی مراکز تک لانے اور واپس لے جانے کیلئے ٹرانسپورٹ کا انتظام کرنے کی بھی ہدایت دی گئی ہے۔ خصوصی اور محفوظ مرکز: کھانسی ، سردی اور بخار جیسی علامات والے طلباء کیلئےکم سے کم دو کمروں کو خصوصی کمرے کے طور پر نامزد کیا جائے گا۔ کھانسی ، سردی اور بخار کے علامات والے طلباء کو لازمی طور پر N95 ماسک دیئے جائیںگے اور انہوں نے ڈی ایچ او کو ہدایت کی کہ ہر تعلقہ میں ایک ایمبولینس کا انتظام کریں ۔اگر کسی میںآکسیجن سیاچوریشن کی سطح 94 فیصد سے کم ہے تو ایسے طلبا کو مزید طبی علاج کیلئے بھیجا جائے گا۔ اگر کھانسی ، بخار اور کھانسی کے ساتھ آکسیجن سیاچوریشن کی سطح 94 فیصدسے کم ہو تو انہیں اس مخصوص کمرے میںبیٹھاکر امتحان تحریر کرنے کا موقع دیا جائیگا۔ اگرکوئی طالب علم پہلے ہی کوویڈپازیٹیو ہے اور امتحان میں غیر حاضر ہوںگے توانہیں دوبارہ امتحان لکھنے کی اجازت دی جائیگی اور یہ پہلا موقع سمجھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہر ایک سپروائزر کو لازمی طور پر ماسک اور فیس شیلڈ پہننا ہوگا۔ڈی ڈی پی آئی این ایم رمیش نے بتایا کہ ایس او پی کے مطابق اور افسران کی رہنمائی میںتمام امتحانی مراکز میں فرائض انجام دینے کیلئے سپرنٹنڈنٹ ، روم سپروائزر اور دیگر ضروری اہلکاروں کی تقرری کا عمل جاری ہے۔امتحانی بورڈ کے ذریعہ فراہم کردہ سوالیہ پرچوں کو تعلقہ خزانے میں محفوظ کرنے کیلئے اقدامات کیے گئے ہیںاورامتحان کے بعد او ایم آر بنڈلوں کو محفوظ رکھنے کیلئے حفاظتی کمرے قائم کردیئے گئے ہیں۔ضلع میں جملہ 150 امتحانی مراکز اور افزود 16 امتحانی مراکز کی نشاندہی کی گئی ہے۔ان مراکز میں جملہ 24771 طلباء امتحانات میں شریک ہوں گے۔ مجموعی طور پر 61 افسران ، 150 مقامی آگاہی ٹیم افسران کو مقرر کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ طلباء کیلئے ویکسین اور کوویڈٹیسٹ لازمی ہے۔امتحان میں حصہ لینے والے افسران ، اساتذہ اور عملے کو ویکسین کی کم از کم ایک خوراک لینی ضروری ہے اور اس لحاظ سےآراے ٹی یا آرٹی پی سی آر ٹیسٹ کروانا ہوگا۔ اگر نتیجہ مثبت ہے توانہیں امتحانی فرائض میں شریک ہونے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ امتحانی فرائض کی انجام دہی کیلئے مجموعی طور پر 3967 اہلکاروںکا تقرر کیا گیا ہے۔ان سب کو ویکسین کی پہلی خوراک موصول ہوئی اور 746 اہلکاروںنے دوسری خوراک حاصل کی ہے۔اس موقع پرڈی ایچ اوراجیش سرگی ہلی، ڈایٹ پرنسپل بسوراجپا، ڈسٹرکٹ خزانہ آفیسر ایچ ایس ساوتری، ایس ایس ایل سی نوڈل آفیسر ایچ آر کرشنامورتی سمیت دیگر افسران موجودتھے۔