از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
بھارت کے مختلف علاقوں میں مدرسوں کے خلاف شدید کارروائی کی جارہی ہے،آسام کے مدرسوں پربلڈوزر چلایاگاہے،جبکہ کرناٹک،یوپی اور مدھیہ پردیش کے سروے کیلئے حکومتوں نے احکامات جاری کئے ہیں اور حکومتوں کاکہناہے کہ وہاں کی سرگرمیوں او رتعلیمی نصاب کے تعلق سے جائزہ لینا بےحد ضروری ہوچکاہے۔کئی مدرسوں پر تو حکومتوں نے دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام بھی لگارکھاہےاوریہ کہاجاتاہے کہ یہ مدرسے دہشت گردی کے اڈے بنتے جارہے ہیں،تقریباً تیس سالوں سے اہلِ مدارس اس بات کی تردید کرتے رہیں کہ یہاں صرف تعلیم دی جاتی ہے یہاں کسی بھی طرح کی ملک مخالف سرگرمی کوانجام نہیں دیاجاتا۔باوجوداس کے مدرسے ہمیشہ فرقہ پرستوں کےنشانے پرہیں۔آزادی کے بعد سے اب تک مدرسوں میں قانون کے مطابق تدریسی سرگرمیاں دی جاتی رہی ہیں،باوجوداس کے یہ مدرسے ہمیشہ سے ہی فرقہ پرستوں اور سیاستدانوں کے نشانے پررہے ہیں۔وہیں پچھلے کچھ سالوں کا جائزہ لیاجائےتو مدرسوں کے بالمقابل مٹھوں اور آشرموں میں جو کچھ ہورہاہے وہ دُنیا جان رہی ہے۔بات چاہے آسارام کی ہویاپھرسوامی سندیپانند آشرم کی یا پھر نارائن سائی کی ہو یاپھر نتیا نندکے بڑدی آشرم کی۔ یہاں تمام بُرائیاں کھلےعام ہورہی ہیں،اب تو کرناٹک کے دو مشہورمٹھوں کے سوامیوں کو بھی عصمت دری کے معاملات میں حوالات بھیجاگیاہےجن میں چتردرگہ کےمروگھا مٹھ کے سوامی شیومورتی جو لنگایت سماج کے اہم سوامیوں میں شمار کئے جاتے ہیں،ان پر جو الزامات عائدکئے گئے ہیں وہ اس بات کی دلیل ہے کہ مٹھوں میں سناتن دھرم کی تعلیمات کے بجائے آبروریزی اور بداخلاقیات کی تعلیمات عام ہورہی ہیں وہاں پربچوں کاجنسی استحصال کیاجارہاہے۔آسارام سے لیکر راگھویشور اور نتیانند سے لیکرچتردرگہ کےمرگھا مٹھ کے سوامی شیومورتی تک ملزمان گھنائونی حرکتوں میں پائے گئے ہیں۔جن سفید پوش علماء کے دامن کو داغدار کرنے کیلئے حکومتیں کوششیں کررہی ہیں،وہیں اس زعفرانی لباس میں ملبوس مٹھوں کے سوامیوں کے دامن داغدار ہونے کے باوجود صاف کرنے کے بجائے خود حکومتیں ان کےبچائو میں آرہی ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتیں مدرسوں کے ساتھ ساتھ مٹھوں کا بھی سروے کرائے ،وہاں کے بچوں سے پوچھ تاچھ کرے کہ کیا ان کے مذہبی رہنماء ان کی زندگیوں کے ساتھ ساتھ عزت کے ساتھ تو کھلواڑنہیں کررہے ہیں؟۔بھارت میں ہر سال درجنوں مٹھوں اور آشرموں سوامیوں پر عصمت دری،دھوکہ دہی اور بے ایمانی کے معاملات درج ہورہے ہیں۔یہاں تک کہ مالیگائوں بم دھماکے میں سوامی اسمیا ننداور پرگیہ سنگھ ٹھاکر کے راست طورپر ملوث ہونے کی بات سامنے آنے کے باوجود حکومتیں مٹھوں کے اندر داخل ہونے کیلئے تیارہی نہیں ہیں۔حکومتیں جانتی ہیں کہ زعفرانی کپڑوں میں ملبوس خداکے چہیتوں میں شمار ہونے کا دعویٰ کرنے والےان لوگوں کی وجہ سے ان کی حکومتیں ہل سکتی ہیں۔حالانکہ حکومتیں ہلانے کیلئے یہ اپنے کرشموں کا استعمال نہیں کرتے بلکہ لوگوں کو گمراہ کرتے ہوئے عام لوگوں کو بھڑکانے کا کام کرسکتے ہیں،جس طرح سے مدرسوں کے سروے کیلئے ہدایت دی گئی ہے،بالکل اسی طرح سے آشرموں اور مٹھوں میں بھی اعلیٰ سطحی کمیٹیوں کا دورہ ہوناچاہیے اور وہاں کے حالات کو قلمبند کرنے کی ضرورت ہے۔
