دہلی:۔نائب صدر ایم وینکیا نائیڈونے آج ہندوستان کے قدیم درس وتدریسی نظام پر پھر سے غور کرنے اور روایتی علوم کے احیاء کے ذریعہ ملک کی تعلیمی شعبے میں تابناک روایات کو بحال کرنے کو کہاہے۔آج ہریدوار میں امن ومصالحت کے جنوب ایشیائی ادارے (SAIPR) کا افتتاح کرنے کے بعد حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر نے اس بات پر افسوس ظاہر کیاہے کہ کئی صدیوں تک غیر ملکی حکمرانی نے ہندوستان کے قدیم اور مشہور تعلیمی نظام کو نقصان پہنچایاہے۔انھوں نے کہاہے کہ طویل نوآبادیاتی راج نے عورتوں سمیت بڑے طبقے کو تعلیم سے محروم رکھا اور صرف اعلیٰ طبقے کی رسمی تعلیم تک رسائی تھی۔وینکیانائیڈو نے کہاہے کہ ہم پر تعلیم کو بھگوا بنانے کا الزام لگایا جاتا ہے، لیکن بھگوامیں کیا غلط ہے؟ جو ہمارے قدیم متون میں موجود فلسفے ہیں۔ یہ آج بھی ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے رہنما اصول ہیں۔ انھوں نے کہاہے کہ تمام لوگوں کو معیاری تعلیم حاصل ہونی چاہیے اوراسی صورت میں ہم اپنی تعلیم کو تمام لوگوں کی شمولیت والی اور جمہوری کہہ سکتے ہیں۔ وینکیا نائیڈونے قومی تعلیمی پالیسی کے تحت ہمارے تعلیمی نظام کو ہندوستانی روپ دینے کی کوشش کو سراہا اور اس ذہنیت کی پرزور مذمت کی جو ہر ہندوستانی چیز کو کمتر سمجھتی ہے۔ہمیں اپنی جڑوں سے جڑنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے نائب صدر نے خیال ظاہر کیاہے کہ خاندان کے بڑے بوڑھوں کو چھوٹے بچوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے کو کہا تاکہ نئی نسل میں ہماری روشن تہذیبی اقدار اور روایات کو پروان چڑھایا جاسکے۔ انھوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ فطرت کے قریب بھی وقت گزاریں اور نیچر بہترین استاد قرار دیا۔
ہماری زندگی میں مادری زبان کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے نائب صدر نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ اپنی مادری زبان بولیں، اس کی تشہیر کریں اور اسے آگے بڑھائیں۔وینکیا نائیڈو نے کہاہے کہ میں وہ دن دیکھنے کا خواہشمند ہوں جب ہندوستانی اپنے ہم وطنوں سے مادری زبان میں بات کریں گے۔ انتظامیہ مادری زبان میں کام کرے گا اور تمام سرکاری احکامات عوام کی زبان میں جاری کئے جائینگے۔ انھوں نے عدالتی کارروائیوں میں بھی مقامی زبانوں کے استعمال پر زور دیا۔تنازعات سے پْر اس دنیا میں سماجی اور دیگر کشیدگیوں کے بڑھنے پر نائب صدر نے کہاہے کہ انسانیت کی پیش قدمی اور ترقی کے لیے امن پیشگی شرط ہے۔ انھوں نے کہاہے کہ امن کے فائدے تمام لوگوں تک پہنچتے ہیں اور اس سے سماج میں دولت اور خوشیاں آتی ہیں۔
ہماری صدیوں پرانی تہذیبی اقدار’’وسودھیوکٹمبکم‘‘ اور ’’لوکا سمست سکھنوبھونتی‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے وینکیانائیڈونے کہاہے کہ امن اور انسانیت نوازی کے لیے ہندوستان کا عہد اور عزم جغرافیائی حدود سے بعیدہے۔ انھوں نے کہاہے کہ ہندوستان کو امن کے گہوارے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ہم نے ہمیشہ امن وآشتی کو اعلیٰ ترجیح دی ہے اور سماج کے تمام طبقوں کے درمیان ہم آہنگی کو یقینی بنایا ہے۔اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ جنوب ایشیائی ممالک یکساں تاریخ اور تہذیب رکھتے ہیں، وینکیا نائیڈونے خطوں میں مختلف لسانی، نسلی اور ثقافتی خصوصیات کا باہمی احترام کرنے کو کہا جو رواداری اور پرامن بقائے باہم کا مظہر ہے۔ انھوں نے کہاہے کہ دنیا کی روحانی راجدھانی کے طور پر ہندوستان امن اور ہم آہنگی کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔امن ومصالحت کے جنوب ایشیائی ادارے (SAIPR) کے قیام میں رول ادا کرنے والے تمام لوگوں کو مبارکباد دیتے ہوئے نائب صدر نے امید ظاہر کی کہ یہ ادارہ تعلیمی مباحثوں کا اہم مرکز بنے گا اور امن ومصالحت پھیلانے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ قابل ذکر ہے کہ SAIPR ہریدوار میں دیو سنسکرتی وشوودیالیہ میں گایتری تیرتھ کے گولڈن جبلی سال میں قایم کیا گیا ہے۔اس موقع پر نائب صدر نے بدھ اور سمراٹ اشوک کو یاد کیا اور کہا کہ انھوں نے ’’یدھ گھوش‘‘ ’’پردھما گھوش‘‘ کو ترجیح دی اور بھگوان بدھ کا پیش کردہ پنچ شیل ہماری خارجہ پالیسی کی اساس ہے۔وینکیانائیڈونے دیو سنسکرتی وشوودیالیہ کی دیگر اداروں کے ساتھ مل کر یوگا اور میڈیٹیشن کو دنیا بھر میں مقبول بنانے کی کوششوں کی تعریف کی۔ انھوں نے یوگا کو انسانیت کے لیے ہندوستان کا منفرد تحفہ قرار دیا۔ادارے کا افتتاح کرنے کے بعد نائب صدر نے SAIPR اور بالٹک ثقافت اور مطالعات کے پہلے مرکز کا دورہ کیا۔ انھوں نے پرگیش مہاکال مندر میں درشن کیا اور یونیورسٹی کے احاطے میں رودراکش کا پودا بھی لگایا۔ یونیورسٹی میں انھیں مختلف یونٹوں اور مراکز میں وہاں کے کام کاج سے آگاہ کرایا گیا۔ نائب صدر نے DSVV کیمپس میں ’’وال آف ہیروز‘‘ پر شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور یونیورسٹی کی نئی ویب سائٹ سمیت کئی پبلی کیشنز کا آغاز کیا۔لیفٹیننٹ جنرل گْرمیت سنگھ، پی وی ایس ایم، یووائی ایس ایم، اے وی ایس ایم، وی ایس ایم (ریٹائرڈ)، گورنر اتراکھنڈ ڈاکٹر پرنوپانڈے، چانسلر دیوسنسکرتی یونیورسٹی،شرد پردھی، وائس چانسلر ڈاکٹر چنمے پانڈے، رجسٹرار بلدیو دیوگن، فیکلٹی ارکان طلباء اور اکابرین اس موقع پرموجودتھے۔
