گائوکشی قانون پر5/اگست کو ہوگی ہائی کورٹ میں سنوائی

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔کرناٹکا میں نافذ کئے گئے گائوکشی قانون کو منسوخ کرنے کیلئے کرناٹکاہائی کورٹ میں دائر کردہ پی آئی ایل پر سنوائی ہوئی ہے۔اس سنوائی کے دوران ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ایس اے اوکانے حکومت کے رویہ پربرہمی کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ بارہا ہدایت دینے کے باوجودانسدادگائوکشی ایکٹ کومرتب کرنے کے بعد اُس کیلئے قوانین کی ترتیب کیا ہوگی ،اُس پر جواب دائرکیاگیاہے ۔دوسری جانب اس معاملے کے اہم وکیل اڈوکیٹ رحمت اللہ کوتوال نےعدالت میں اپنے موکل محمد عارف جمیل کی جانب سے رٹررن آرگیمنٹ کو فائل کرتے ہوئے معاملہ کو جلد ازجلد ختم کرنے کیلئے درخواست کی۔عدالت نے حکومت کے وکیل سے پوچھاکہ آخرکیا وجہ ہے کہ حکومت کی طرف سے جواب درج کرنے کیلئے ہدایت دینے کے باوجود عدالت کے حکم کو نظراندازکیاجارہاہے ۔ اس پر سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایاکہ حکومت اس سمت میں جلدہی جواب دائرکریگی۔جسٹس ایس اے اوکانےاس معاملے کی اگلی سنوائی5 /اگست کو انجام دینے کی بات کہی ہے۔وہیں اڈوکیٹ رحمت اللہ کوتوال نے عدالت کوبتایاکہ جانوروں کے نقل وحمل کیلئے عدالت کی طرف سے روک لگنے کے باوجود ریاست کے مختلف مقامات پر جانوروں کولانے لے جانے والے کسانوں اور ٹرانسپورٹرس کو نشانہ بنایاجارہاہے۔اس پر عدالت نے سرکاری وکیل کو ہدایت دی کہ وہ اس سمت میں حکومت کو بآورکرے۔دوسری جانب آج شیموگہ میں ریاستی وزیر برائےمویشی پالن پربھو چوہان نے افسروں سے تبادلہ خیال کرتے وقت انسدادگائوکشی قانون کے تعلق سے تفصیلات پوچھی تو یہ بات سامنے آئی کہ افسروں کونئےانسداد گائوکشی قانون کے تعلق سے کوئی اطلاع نہیں ہے اور نہ ہی انہوں نے ریاستی وزیر کو اطمینان بخش جواب دیا۔اس پر ریاستی وزیر سرپیٹھتے رہے گئے۔