شیموگہ:۔فرقہ وارانہ کوویڈ پھیلانے والے رکن اسمبلی تیجسوی سوریہ کے خلاف کرمینل مقدمہ دائر کرنےپرکانگریس اقلیتی شعبہ کے ضلعی صدر محمد عارف اللہ نے زور دیا۔ریاست اور پوری ملک میں کورونا کی دوسری لہر اندازے سے بھی زیادہ مہلک ہوتی جارہی ہےاور ایسے سنجیدہ ماحول میںتیجسوی سوریہ اورچند بی جے پی لیڈران بنگلور میں بیڈ بلاکنگ اسکینڈل میں مسلم تنظیموںکو صف اول میں لارہے ہیںاور اس پر قوم کا رنگ چڑھانے کا کام کررہے ہیں یہ انتہائی خطرناک اورتشویشناک ہے۔ درحقیقت جو بھی اس بیڈ بلاکنگ اسکینڈل میں شامل ہیںان کے خلاف کارروائی کی جانی چاہئے۔ لیکن بجائے اسکے عوامی نمائندوں کاایک ہی قوم کی طرف اشارہ کرنا درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ شیموگہ وزیرنگران کارکے ایس ایشورپا نے بھی بیڈبلاکنگ کے پیچھے ایک مسلم تنظیم کے شامل ہونے کا دعویٰ کررہےہیں۔ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ کچھ لوگوں کو ٹھوکر لگنے کے بعد عقل آجاتی ہے لیکن ایشورپا ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں ٹھوکر لگنے کے بعد بھی عقل نہیں آتی۔ بیڈز اسکینڈل میں گرفتار ہونے والے نیتراوتی ، روہت کمار اور ششی کے ناموں کا ذکر کیوں نہیں کیا؟ 205 افراد میں سےکیا صرف 17 مسلمان ہی انکی آنکھوں کو نظرآئےہیں؟ تیجسوی سوریہ انہیں یہ تک نہیں معلوم کہ وہ کون لوگ ہیں جن پر یہ الزام لگا رہےہیں۔جبکہ اس ایجنسی کی سربراہی بی جے پی حکومت کرتی ہےاور وزیر اعلیٰ بی ایس یڈیورپا ہی اس کے چیف ہیں۔ اگر ایسا ہے تو وہ اس حدتک بے وقوف ہیں کہ وہ خود ہی وزیر اعلیٰ پر الزام لگارہے ہیں۔ تیجسوی سوریہ ایسا محسوس کررہے ہیں کہ جیسے انہوں نے بہت اچھا کام کیا ہے۔انہوں نے پوچھا کہ کیا کوئی مسلمان بطور کورونا وارئرس خدمات نہیں دے رہاہے؟ کیا وہ کام نہیں کررہے ہیں؟یہ ایک طرح کی حکومت ہے جو اپنی غلطیوں کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہےاور چامراج نگر میںہوئے کوویڈ قتل جن میں 24 جانیں گئیں ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ کو سا مذہب ہے؟جوموت کے جلوس نکلنے کے باوجود بھی فرقہ وارانہ رنگ پھیلانے کا کام کرتا ہیں انہوں نے کہا کہ جب تک بی جے پی میں ایسے فرقہ پرست رہیں گے تب تک بی جے پی حکومت کے نام کی بدنامی ہونا یقینی ہے۔اتنے دن تک آکسیجن ، بیڈ، وینٹی لیٹر کے بغیر مریضوں کی موت ہورہی ہے ۔ مرکزی حکومت سے امداد تک نہیں مل رہی ہے۔ ایسے حالات میں سب کو مل کر کورونا پر قابو پانے کیلئے کام کرنا چاہئے ، لیکن بجائے اسکے ایک مذہب کو دوسرے مذہب کے درمیان لاکر سیاست کی نہیں کرنی چاہئے۔انہوں نے کہاکہ یہ سچ ہے کہ جو بھی غلط کام کریگا اسے سزا ملنی چاہئے۔ لیکن اسکو مذہب کا رنگین دینا انتہائی سنگین عمل ہے۔ وزیر اعلیٰ بی ایس یڈیورپا کو اس سے محتاط رہنا چاہئے۔حکومت کوویڈ کو فوری طور پر قابو کرنے کی طرف گامزن ہونا چاہئے، آکسیجن کی فراہمی کا بندوبست کرنا ضروری ہے۔ کوویڈ آنے والے دنوں میں اور بھی زیادہ تباہی مچاسکتا ہے۔انہوں نے مشورہ دیا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ ان حالات کو مذہب، ذات پات اورفرقوںکے آئینہ میں دیکھنے کے بجائے اس سے اوپر اٹھ کر انسانیت کی نظروں سے دیکھنا چاہئے۔ انہوں نے اپیل کی کہ ہر شخص کومل کر کورونا روکنے کا راستہ تلاش کرنا چاہئے۔تبھی ہمارا ملک کورونا کی اس جنگ کو جیت سکتا ہے۔
