کابل: افغانستان میں کابل پر قبضے اور امارت اسلامیہ افغانستان کے قیام کے اعلان کے بعد طالبان نے سرکاری ملازمین کے لئے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے خواتین کو افغان حکومت میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔منگل کے روز طالبان کے ثقافتی کمیشن کے رکن انعام اللہ سمنغانی کے ایک بیان کے مطابق”امارت اسلامیہ خواتین کو مظلوم نہیں بنانا چاہتی۔ انہیں شریعت کے مطابق حکومتی دفاتر میں شامل کریں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ "نظام حکومت کو ابھی حتمی شکل نہیں دی گئی ہے مگر ایک مکمل اسلامی قیادت پر مبنی حکومت کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس میں تمام شعبہ ہائے زندگی کے افراد کو شامل ہونا چاہئیے ہے۔افغان طالبان نے بین الاقوامی برداری کے اندازوں کے برعکس انتہائی سرعت سے افغانستان کے تمام صوبوں پر قبضہ کر لیا، جہاں انہیں کسی خاطر خواہ مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ افغان دارالحکومت کابل میں داخلے سے قبل طالبان نے سابق افغان صدر اشرف غنی سے مذاکرات کئے اور اقتدار کی منتقلی کا معاہدہ طے کیا۔عام معافی کے اعلان کے حوالے سے طالبان کے کلچرل کمیشن کے رکن انعام اللہ سمنگانی کا کہنا ہے کہ طالبان ملک میں نارمل صورت حال چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی امارات نہیں چاہتی کہ افراتفری کے حالات میں خواتین کو کسی بھی قسم کا نقصان پہنچے۔طالبان نے خواتین سے کہا ہے کہ وہ حکومت کا حصہ بنیں۔ یہ امر اہم ہے کہ طالبان تحریک افغانستان کے لیے اسلامی امارات کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ سمنگانی کا یہ بھی کہنا ہے کہ تحریک کی خواہش ہے کہ عام لوگ ان کی تحریک کا حصہ بنیں۔
