گریجویٹ داخلوں کے عمل میں امتیازی سلوک نہ کریں: طلباء کا مطالبہ

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:گریجویٹ کالجوں میں داخلے کے عمل میں امتیازی سلوک نہ کرنے کا مطالبہ آل انڈیا ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی جانب سے آج ڈپٹی کمشنر دفتر کے بالمقابل احتجاج کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنرکو ایک عرضی داخل کی ہے۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ پچھلے سال کے مقابلےاس سال 2.3 لاکھ اضافی طلباء گریجویٹ داخلہ کے اہل ہیں۔ پچھلے دو سالوں میں تقریباً 16  لاکھ بچوں کونجی اسکولوں سے سرکاری اسکولوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ اس سال سے سرکاری ا سکولوںکے داخلے میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسکو لوںکی تعلیم کا یہ حال ہے تواعلیٰ تعلیم بالخصوص گریجویٹ کی تعلیم میںیقیناً سرکاری یا امدادی کالجوں میں بڑے پیمانے پر داخلہ لینے کیلئے طلباءاور والدین اندراج کے منتظرہوںگے۔ مظاہرین نے کالجوں کے داخلے کے عمل کو ملتوی کرنے پر برہمی کا اظہارکیا۔طلباء نے مطالبہ کیا کہ گریجویشن کالجوں میں داخلے کے عمل میں امتیازی سلوک نہیں کیا جانا چاہیے۔انہوں نے مزید مطالبہ کیا کہ ایس ایس ایل سی اورپی یو سی کے طلباء کیلئے اپنائے گئے اصولوں کو ڈپلومہ کے پہلے سال میں زیر تعلیم طلباء پر عمل کیا جانا چاہئے ۔ ڈپلومہ طلباءکیلئے امتیازی سلوک نہیں کیا جاناچاہئےاورآخری سال کے طلباء سے ایک ہی سمسٹر کا امتحان لینے کا مطالبہ کیا ۔ دوسرے اور چوتھے سمسٹر کی ڈگری اور دوسرے سمسٹر کے پوسٹ گریجویٹ امتحانات کو منسوخ  کردیا گیا ہے ۔تمام یونیورسٹیاں فوری طور پر اس سرکلر کوجاری کرنے پر زور دیا گیا۔مزید مطالبہ کیا گیا کہ منسو خ شدہ امتحان کیلئےکوئی فیس وصول نہ کریں۔ طلباء اور والدین پر فیس کی ادائیگی کیلئے دبائو نہیں ڈالاجانا چاہئے۔ احتجاج میںتنظیم کے صدر کےایس اشوینی، ریاستی سکریٹری اجئے کمار، رکشیتہ، اشرف، شہباز، ہرشا، اپوروا ، کاویا وغیرہ موجودتھے۔