صحافت تمام الزامات کو بے نقاب کر کے آگےبڑھ رہی ہے: روی ہیگڑے

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ: صحافت تمام الزامات کو بے نقاب کرتے ہوئےصحافت کے راستے میں بڑھتی جا رہی ہے ۔ اس بات کا اظہار کرناٹکا ورکنگ جرنلسٹ ڈی وی جی ایوارڈ یافتہ اورکے کنڑ اور گولڈن نیوز کےایڈیٹر روی ہیگڈے نے کہا ہے۔ انہوں نے آج پریس ٹرسٹ میں ڈسٹرکٹ ورکنگ جرنلسٹس اسوسیشن کے زیر اہتمام کانفرنس سے خطاب کر تےہوئے کہا کہ میڈیا کے بارے میں بہت سی باتیں ، تضادات اور الجھنیں ہیں یہ سچ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اخبارات اپنی قدر کھو رہے ہیںیہ آج کی بات نہیں ہے بلکہ یہ کئی سالوں سے صحافت سے وابستہ ہےاوراس میں تبدیلی لازمی ہے۔ یہ صحافت میں بھی ہے لیکن جو بھی تبدیلیاں ہوتیں ہیںاس سے صحافتی امیدوں میں خلل نہیں آنا چاہیے۔سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس اب صحافتی حصےکی جگہ لے رہی ہیں۔ہم جسے گوگل کہتے ہیں وہ سب سے بڑا صحافتی ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس جیسے فیس بک ، واٹس ایپ ، ٹوئٹر بھی قابل ذکر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان سب کے باوجود پرنٹ میڈیا زندہ ہے اور اپنی روایت کوبہتر طریقے سے برقرار رکھے ہوئے ہے۔ لیکن کچھ اچھے اخبارات ہیں جواسکی لہر میں پھنس کر برباد ہورہے ہیں یہ بات بھی ایک حقیقت ہے۔ ایچ ایس دورے سوامی ایوارڈ یافتہ پرجاوانی کے سینئرصحافی بی ایم حنیف نےبات کرتے ہوئے کہا کہ صحافی کیلئےضروری ہے کہ وہ اپنے خیالات اور وقار کو برقرار رکھے۔ ان کے ذاتی خیالات کو مسلط کرنا ٹھیک نہیں ہے۔ چاہے کچھ بھی ہو صحافت کو عوام کے مسائل پر توجہ دینی چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ خبر کے علاوہ زبان بھی اہم ہے۔سینئرصحافی این آر ونکٹیش نے اس موقع پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صحافت کو اپنی شفافیت برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ جو بھی مشکلات پیش آئیں انہیں اپنا موقف تبدیل کیے بغیر معاشرے میں بڑھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کو مطالعہ  پرترجیح دینی چاہیے اور چیلنجز کو قبول کرنا چاہیے۔کانفرنس میں ورکنگ جرنلسٹس اسوسیشن کے ضلعی صدر کے وی شیوکمار، جنرل سکریٹری شیوکمارودیگر موجودتھے۔